آفریدی کی محنت رائیگاں، سیریز ہاتھ سےگئی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کپتان شاہد آفریدی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بن گئے لیکن پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل صرف 3 رنز سے ہارکر سیریز بھی ہارگئی۔
اس شکست نے پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں دوسری پوزیشن سے بھی محروم کردیا۔
اگر تیسرے میچ میں بھی اسے شکست ہوگئی تو پاکستانی ٹیم چھٹے نمبر پرچلی جائے گی البتہ جیتنے کی صورت میں اس کی رینکنگ چوتھی ہوجائے گی۔
شاہد آفریدی نے تین وکٹیں حاصل کرنے کے بعد صرف آٹھ گیندوں پر تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے چوبیس رنز بنا ڈالے لیکن ان کی محنت سرفراز احمد کی اہم موقع پر گرنے والی وکٹ سے ضائع ہوگئی ۔
انور علی اور سہیل تنویر آخری اوور میں جیت کے لیے درکار گیارہ رنز بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
انگلینڈ نے کپتان اوئن مورگن سمیت چار تبدیلیاں کرتے ہوئے قیادت کی ذمہ داری پہلی بار جوز بٹلر کو سونپی جنہوں نے اسی میدان میں پاکستانی بولنگ کے خلاف صرف 46 گیندوں پر سنچریسکورکی تھی۔
انگلینڈ کی بیٹنگ میں اگرچہ کوئی بڑی اننگز شامل نہیں تھی لیکن جیمز ونس، جیسن روئے اور بٹلر نے ہاتھ روکے بھی نہیں۔
ونس نے دو چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 38 رنز سکور کیے۔
جیسن روئے نے دو چھکے اور ایک چوکا لگاتے ہوئے 29 رنز بنائے۔
کپتان بٹلر نے ایک چوکے اور تین چھکوں کی مدد سے تنتیس رنز سکور کیے۔
وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے باوجود انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے رن ریٹ کو نیچے نہیں آنے نہیں دیا اور مقررہ بیس اوورز کا اختتام آٹھ وکٹوں پر 172 رنز پر کیا۔
انگلینڈ نے آخری دس اوورز میں 102 رنز کا اضافہ کیا۔
شاہد آفریدی نے مسلسل تین میچز میں وکٹ سے محرومی کا ازالہ تین وکٹیں لے کر کردیا اس کے ساتھ ہی وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بن گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کی وکٹوں کی تعداد 86 ہوگئی ہے جو سعیداجمل کی وکٹوں سے ایک زیادہ ہے ۔
انورعلی نے پہلے میچ کی طرح ایک بار پھر اچھی بولنگ کی اور چار اوورز میں ستائیس رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں لیکن دوسرے بولرز رنز کی رفتار کو تھام نہ سکے۔
سہیل تنویر اور وہاب ریاض کو انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے تختہ مشق بنایا۔
وہاب ریاض نے 41 اور سہیل تنویر نے 43 رنز کے ساتھ اپنے کوٹے کے چار چار اوورز مکمل کیے۔
سہیل تنویر دو کیچز ڈراپ کرنے کے بھی خطاوار تھے۔
ایک میچ کی غیرحاضری کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے شعیب ملک جیمز ونس کے سامنے بے بسی کی تصویر بن گئے جنہوں نے ان کے تیسرے اوور میں سترہ رنز بناڈالے جس کے بعد آفریدی نے ان سے چوتھا اوور کرانے کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔
پاکستانی اننگز کی ابتدا احمد شہزاد نے جارحانہ بیٹنگ سے کی تاہم وہ دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے اٹھائیس رنز بناکرلیفٹ آرم اسپنر اسٹیفن پیری کی گیند پر بٹلر کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوگئے۔
بٹلر نے عادل رشید کی گیند پر رفعت اللہ مہمند کو بھی تئیس رنز پر اسٹمپڈ کردیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انتالیس سالہ رفعت کے لیے مسلسل دوسرے میچ میں قابل ذکر اننگز نہ کھیلنا مایوس کن تھا۔
پاکستانی ٹیم اپنے ٹریک سے اس وقت ہٹتی ہوئی نظر آئی جب دو اوورز میں 24 رنز بنانے کے بعد اگلے دو اوورز میں محمد حفیظ اور صہیب مقصود کی وکٹیں گرگئیں۔
عمراکمل بٹلر کے ہاتھوں آؤٹ دیے جانے کے فیصلے سے مطمئن نہیں تھے لیکن اس وکٹ نے انگلینڈ کی گرفت مضبوط کردی۔
شعیب ملک اور سرفراز احمد کو آخری پانچ اوورز میں جیت کے لیے چونسٹھ رنز بنانے تھے لیکن شعیب ملک سترہویں اوور میں چھبیس رنز بناکر پلنکٹ کی تیسری وکٹ بن گئے۔
شاہد آفریدی کی جارحانہ بیٹنگ نے پاکستانی امیدوں کو زندہ رکھا لیکن ان کے آؤٹ ہونے کے بعد تمام نظریں سرفراز احمد پر تھیں لیکن اس دورے میں ان کی غیرتسلی بخش بیٹنگ کا سلسلہ جاری رہا اور وہ آخری اوور کی پہلی گیند پر انیس رنز بناکر ووکس کی آف اسٹمپ سے باہر کی گیند پر سوئپ کھیلنے کی کوشش میں بولڈ ہوگئے۔
آخری اوور میں پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے گیارہ رنز درکار تھے جو کم ہوکر آخری گیند پر چار رہ گئے لیکن انورعلی سے یہ چوکا لگ نہ سکا۔



