یونس کا ریکارڈ، شعیب کی ٹیم میں واپسی پر سنچری

یونس خان نے چھکا لگا کر جاوید میانداد کا 8832 رنز کا ریکارڈ توڑا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیونس خان نے چھکا لگا کر جاوید میانداد کا 8832 رنز کا ریکارڈ توڑا

ابوظہبی میں انگلینڈ کے خلاف پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں پہلی اننگز میں پاکستانی بلے بازوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

منگل کی شام پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 286 رنز بنا لیے تھے۔

<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90168" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’ثانیہ جیت رہی ہو تو مجھے بھی کچھ کرنا ہوتا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/10/151013_shoaib_malik_test_return_sania_zs" platform="highweb"/></link>

جب کھیل ختم ہوا تو کریز پر پانچ برس بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے موقع پر اپنی تیسری ٹیسٹ سنچری بنانے والے شعیب ملک اور اسد شفیق موجود تھے۔

یونس نے معین علی کو چھکا لگا کر جاوید میانداد کا 8832 رنز کا ریکارڈ توڑا۔ میانداد نے یہ رنز بنانے کے لیے 124 ٹیسٹ میچ کھیلے تھے جبکہ یونس نے یہ سنگِ میل 102 ٹیسٹ میچوں میں عبور کیا۔

شعیب ملک نے محمد حفیظ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 168 رنز بنائے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشعیب ملک نے محمد حفیظ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 168 رنز بنائے

شیخ زید سٹیڈیم میں میچ کے پہلے دن منگل کو پاکستانی کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز شان مسعود اور محمد حفیظ نے کیا لیکن انگلینڈ کو تیسرے ہی اوور میں پہلی کامیابی ملی جب جیمز اینڈرسن نے شان کو بولڈ کر دیا جو صرف دو رنز بنا سکے۔

تاہم اس کے بعد شعیب ملک نے محمد حفیظ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 168 رنز بنائے۔

حفیظ اپنی سنچری سے صرف دو رنز کی دوری پر بین سٹوکس کی گیند پر 98 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

یونس اور شعیب کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 74 رنز کی شراکت ہوئی جس کا خاتمہ براڈ نے یونس کو 38 رنز پر کیچ آؤٹ کروا کے کیا۔

انگلینڈ کو تیسرے ہی اوور میں پہلی کامیابی ملی جب جیمز اینڈرسن نے شان مسعود کو بولڈ کر دیا
،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کو تیسرے ہی اوور میں پہلی کامیابی ملی جب جیمز اینڈرسن نے شان مسعود کو بولڈ کر دیا

کپتان مصباح الحق زیادہ دیر وکٹ پر نہ رک سکے اور جیمز اینڈرسن کی دوسری وکٹ بنے۔ اس وکٹ کے ساتھ اینڈرسن ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولروں میں 415 وکٹوں کے ساتھ دسویں نمبر پر پہنچ گئے۔

اس میچ کے لیے پاکستان کو سپنر یاسر شاہ کی خدمات حاصل نہیں اور ان کی جگہ فاسٹ بولر عمران خان ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کا متحدہ عرب امارات میں ریکارڈ متاثر کن رہا ہے اور وہ یہاں کھیلی گئی سات میں سے کوئی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے۔ اس نے تین ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں اور چار برابر رہی ہیں۔

پاکستانی ٹیم کی جیتی گئی تین سیریز میں 2012 میں انگلینڈ کے خلاف سیریز بھی شامل ہے جس میں اس نے تینوں میچ جیت کر کلین سویپ کیا تھا۔