بلال آصف کام دکھاگئے، پاکستان سیریز جیت گیا

بلال آصف نے اپنی آخری چار وکٹیں صرف 15گیندوں میں حاصل کیں اور زمبابوے کی اننگز صرف 161 رنز پر تمام کردی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبلال آصف نے اپنی آخری چار وکٹیں صرف 15گیندوں میں حاصل کیں اور زمبابوے کی اننگز صرف 161 رنز پر تمام کردی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے متنازع انداز میں دوسرا ون ڈے ہارنے کے بعد تیسرے اور آخری ون ڈے میں زمبابوے کو شاندار بولنگ سے آؤٹ کلاس کردیا۔

اپنا دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے آف سپنر بلال آصف سات وکٹوں کی اس جیت کے مرکزی کردار تھے جنھوں نے صرف 25 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کرکے میزبان ٹیم کی بنی بنائی کو ایسے بگاڑا کہ وہ پھر سنبھل ہی نہ سکی۔

یہ جیت وکٹ کیپر سرفراز احمد کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا سبب تھی جنھوں نے اظہرعلی کے ان فٹ ہونے کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم کی پہلی بار قیادت کی۔

اس دورے میں یہ پہلی بار ہوا کہ پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم شکست سے دوچار ہوئی ہے۔

موتمبامی اور چبھابھا کی 89 رنز کی اوپننگ شراکت کے بعد زمبابوے سے ایک معقول سکور کی توقع کی جا رہی تھی لیکن بلال آصف نے اپنے پانچویں اوور سے وکٹیں لینے کا جو سلسلہ شروع کیا تو جیسے میزبان بیٹسمین بیٹنگ کرنا ہی بھول گئے۔

چبھابھا نصف سنچری سے دو رنز کی کمی پر بلال آصف کا پہلا شکار بنے۔

محمد عرفان کی تیز گیند سر پر لگنے کے سبب موتمبامی کے ایک لمحے کے لیے اوسان خطا ہوئے لیکن وہ بہت اچھا کھیلے تاہم محمد عرفان ہی انھیں 67 رنز پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے اس اننگز میں پانچ چوکے اور دو چھکے شامل تھے جس کے بعد آؤٹ ہونے والا کوئی بھی بیٹسمین ڈبل فگرز میں داخل نہ ہوسکا۔

بلال آصف نے اپنی آخری چار وکٹیں صرف 15 گیندوں میں حاصل کیں اور زمبابوے کی اننگز صرف 161 رنز پر تمام کردی۔

لیفٹ آرم سپنر عماد وسیم نے ایک میچ کی غیرحاضری کے بعد ٹیم میں واپس آ کر پھر دھاک بٹھادی اور تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس دورے میں انھوں نے چار میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کیں۔

زمبابوے کی تمام دس وکٹیں سکور میں صرف 72 رنز کے اضافے پر گرگئیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنزمبابوے کی تمام دس وکٹیں سکور میں صرف 72 رنز کے اضافے پر گرگئیں

بلال آصف اور احمد شہزاد نے نصف سنچری شراکت سے ہدف کو مزید آسان کیا ۔ بلال آصف 38 رنز بناکر آؤٹ ہوئے لیکن احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی مایوس کن فارم کا سلسلہ جاری ہے۔

احمد شہزاد جو دو ٹی ٹوئنٹی میچ میں صرف 17 اور سات اور پھر پہلے ون ڈے میں 12 رنز ہی بنا سکے تھے اس بار بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور 12 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

اسی طرح محمد حفیظ دونوں ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 17 اور دس رنز بنانے کے بعد تینوں ون ڈے میں مجموعی طور پر صرف 50 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

شعیب ملک اور اسد شفیق کے درمیان 58 رنز کی شراکت پاکستانی ٹیم کو 34 ویں اوور میں جیت تک لے گئی۔

اسد شفیق 38 اور شعیب ملک 34 رنز پر ناقابل شکست تھے۔

شعیب ملک ہی مین آف دی سیریز تھے جبکہ بلال آصف مین آف دی میچ کے بجا طور پر مستحق تھے۔