پہلے میچ میں سپنرز نے زمبابوے کو کہیں کا نہ چھوڑا

یاسرشاہ نے اپنے پہلے اور تیسرے اوور میں وکٹ حاصل کر کے میزبان ٹیم کی مشکلات بڑھائیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیاسرشاہ نے اپنے پہلے اور تیسرے اوور میں وکٹ حاصل کر کے میزبان ٹیم کی مشکلات بڑھائیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی بیٹسمینوں کے ذہنوں میں شاید یہ بات آ چکی ہے کہ کم سکور کرنے کے باوجود ان کے ساتھی بولرز اس سکور کا دفاع کر سکتے ہیں کم از کم زمبابوے کے اس دورے میں تو یہی ہو رہا ہے۔

پچھلے دونوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم بڑا سکور نہیں کر پائی لیکن بولرز زمبابوے کی بیٹنگ کو قابو کرنے میں کامیاب رہے اور اب پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی یہی ہوا۔

لیگ سپنر یاسر شاہ نے کریئر بیسٹ چھ وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے زمبابوے کی بیٹنگ لائن کو بکھیرکر رکھ دیا اور پاکستان کو131 رنز کی واضح جیت سے ہمکنار کر دیا۔

ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے تین وکٹیں صرف 35 رنز پر گنوائیں تو زمبابوے کے لیے سب اچھا تھا۔

اظہرعلی کپتان بننے کے بعد اپنے سب سے کم سکور 11 پر آؤٹ ہوئے ۔

شعیب ملک نے 31 رنز کی اننگز کھیلی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشعیب ملک نے 31 رنز کی اننگز کھیلی

احمد شہزاد سری لنکا کے خلاف 95 رنز کی اننگز کے سوا حالیہ ون ڈے میچوں میں تگ ودو کرتے نظر آئے ہیں۔

محمد حفیظ کے لیے جلد آؤٹ ہونا اس لیے مایوس کن تھا کہ انھوں نے زمبابوے اور سری لنکا کے خلاف ایک سنچری اور چار نصف سنچریوں کی شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔

شعیب ملک اور سرفراز احمد کی 65 رنز کی شراکت سے پاکستانی ٹیم نے کچھ سکون کا سانس لیا لیکن درحقیقت یہ محمد رضوان اور عماد وسیم کی 124رنز کی شاندار شراکت تھی جس نے سرفراز احمد کے 44اور شعیب ملک کے 31پر آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی ٹیم کی پوزیشن بہتر کی اور سکور کو 259 تک پہنچایا۔

میچ سے قبل کپتان اظہرعلی نے سکور کا جو اندازہ لگایا تھا یہ اس سے کم تھا۔

محمد رضوان اور عماد وسیم کی بیٹنگ کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ انھوں نے سنگلز لینے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں ہونے دیا اور سکور بورڈ کو متحرک رکھا۔

وہاب ریاض وکٹ حاصل نہیں کر سکے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوہاب ریاض وکٹ حاصل نہیں کر سکے

محمد رضوان نے ون ڈے کریئر کی تیسری نصف سنچری سکور کی اور اننگز کا اختتام کریئر بیسٹ 75 رنز ناٹ آؤٹ پر کیا۔

عماد وسیم نے 42 رنز پر ڈراپ کیچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پہلی ون ڈے نصف سنچری سکور کی۔

زمبابوے کی بیٹنگ آئی تو محمد عرفان اور اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے عامر یامین کے آٹھ اوورز کے بعد میزبان ٹیم کو پہلا دھچکہ ایک بار پھر عماد وسیم سے پہنچا اور پھر آنے والے بیٹسمینوں کو بھی سپن بولنگ کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوگیا۔

یاسرشاہ نے اپنے پہلے اور تیسرے اوور میں وکٹ حاصل کرکے میزبان ٹیم کی مشکلات بڑھائیں تو دوسری جانب شعیب ملک پانچ میچوں کے بعد پہلی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ان کے ہاتھ مزید دو وکٹیں آئیں لیکن یاسر شاہ اس میچ کے ہیرو ثابت ہوئے جنھوں نے صرف 26 رنز دے کر چھ وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے زمبابوے کی اننگز صرف 128 رنز پر سمیٹ دی۔