اوول میں آسٹریلیا کے 481 رنز، انگلینڈ مشکلات کا شکار

آسٹریلوی فاسٹ بولروں نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی فاسٹ بولروں نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے

اوول میں آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز کے پانچویں ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن انگلینڈ کی ٹیم مشکلات کا شکار رہی ہے۔

جمعے کو کھیل کے اختتام پر آسٹریلیا کے 481 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 107 رنز بنا لیے تھے۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP89468" platform="highweb"/></link>

آسٹریلوی بولر مچل مارش نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ رنز دے کر تین وکٹیں لی ہیں۔

جس وقت کھیل ختم ہوا تو کریز پر معین علی اور بین سٹوکس موجود تھے۔

انگلینڈ کو آسٹریلیا کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 374 رنز درکار ہیں جبکہ فالو آن سے بچنے کے لیے اسے مزید 175 رنز بنانا ہوں گے۔

انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز کپتان الیسٹر کک تھے جو 22 رنز بنانے کے بعد نیتھن لیون کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

آسٹریلیا کو دوسری کامیابی ایڈم لیتھ کی وکٹ کی شکل میں ملی جنھیں پیٹر سڈل کی گیند پر مچل سٹارک نے کیچ کیا۔

بعد میں آنے والے بلے بازوں میں بین سٹوکس اور جونی بیرسٹو کے علاوہ کسی بھی بلے باز کا سکور دوہرے ہندسوں میں داخل نہ ہو سکا۔

آسٹریلیا کے لیے اب تک مچل مارش نے تین، پیٹر سڈل اور نیتھن لیون نے دو، دو جبکہ مچل جونسن نے ایک وکٹ لی ہے۔

سٹیون سمتھ اس میچ کے بعد آسٹریلوی ٹیم کی قیادت بھی سنبھالیں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسٹیون سمتھ اس میچ کے بعد آسٹریلوی ٹیم کی قیادت بھی سنبھالیں گے

اس سے قبل آسٹریلوی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 481 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

آسٹریلیا کے لیے سٹیون سمتھ نے 12 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی 11ویں ٹیسٹ سنچری بنائی جبکہ مچل سٹارک اور ایڈم ووجز نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب رہے۔

سمتھ 143 رنز بنانے کے بعد سٹیون فن کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ سنچری سے قبل سمتھ کو فن کے ہی ایک اوور میں اس وقت موقع ملا تھا جب وہ ایک نو بال پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوئے تھے۔

اس سے قبل دوسرے دن پہلے سیشن میں آسٹریلوی بلے بازوں نے نستباً تیز کھیل کا مظاہرہ کیا اور ایڈم ووجز نے نصف سنچری مکمل کی۔

انگلش بولر بین سٹوکس ووجز اور سمتھ کی 146 رنز کی شراکت توڑنے میں اس وقت کامیاب ہوئے جب ووجز 76 رنز بنانے کے بعد ان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ یہ آسٹریلیا کی چوتھی وکٹ تھی۔

انگلینڈ کو پانچویں کامیابی فن نے دلوائی جنھوں نے مچل مارش کو ایئن بیل کے ہاتھوں کیچ کروایا۔

پیٹر نیول 18 رنز بنا سکے انھیں معین علی نے آؤٹ کر کے اپنی دوسری وکٹ لی۔ اسی اوور میں مچل جانسن کو بولڈ کر کے معین نے انگلینڈ کو ساتویں کامیابی دلوائی۔

مچل سٹارک نے نہ صرف ٹیسٹ کرکٹ میں چھٹی نصف سنچری بنائی بلکہ سمتھ کے ساتھ مل کر آٹھویں وکٹ کے لیے 91 رنز کی شراکت بھی قائم کی۔ ان کی وکٹ بین سٹوکس نے لی۔

معین علی تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمعین علی تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر ہیں

انگلینڈ کی جانب سے معین علی، بین سٹوکس اور سٹیون فن نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

یہ آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کا آخری ٹیسٹ میچ ہے اور کھیل کے پہلے دن ان کی پچ پر آمد کے موقع پر انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا تھا۔

پانچ ٹیسٹ میچوں پر مشتمل اس سیریز میں انگلینڈ کو تین ایک کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہے۔

ناٹنگھم میں کھیلے جانے والے ایشز ٹیسٹ سیریز کے چوتھے میچ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ایک اننگز اور 78 رنز سے شکست دے کر ایشز ٹرافی دوبارہ حاصل کی تھی۔

کارڈف میں ایشز ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو 169 رنز سے شکست دی تھی تاہم لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 405 رنز سے شکست دے کر سیریز برابر کر دی تھی۔

اس کے بعد برمنگھم میں کھیلے جانے والے ایشز سیریز کے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر برتری حاصل کر لی تھی۔