ریو میں اولمپکس سے قبل آلودگی کے خلاف احتجاج

ریو میں گوانابارا خلیج کی صفائی کو اجاگر کرنے کے لیے کشتیوں کا ایک قافلہ نکالا گیا
،تصویر کا کیپشنریو میں گوانابارا خلیج کی صفائی کو اجاگر کرنے کے لیے کشتیوں کا ایک قافلہ نکالا گیا

برازیل کے شہر ریو دی جنیورو میں آئندہ سال ہونے والے اولمپکس سے پہلے 30 سے زیادہ کشتیوں پر مشتمل ایک قافلے نے ریو کی گوانابارا خلیج میں پانی کی آلودگی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرین نے خلیج میں بیکٹریا کی سطح کو اجاگر کرنے کے لیے 12 کلو میٹر کا سفر طے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں کشتی رانی کے مقابلوں میں حصہ لینے والے ایتھلیٹ کی صحت کے متعلق تشویش ہے۔

خیال رہے کہ ریو کے خلیج میں آئندہ سنیچر سے اولمپکس میں ہونے والے کشتی رانی کے مقابلوں کی ٹرائل شروع ہو رہی ہے۔

ریو کے حکام نے کہا تھا کہ اولمپک گیمز کے آغاز پر خلیج کو 80 فی صد تک صاف کر دیا جائے گا لیکن حال ہی میں انھوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنا ہدف پورا نہیں کر سکتے۔

اولمپکس مقابلوں کے لیے ریو کی خلیج میں جو بحری راستے منتخب کیے جا رہے ہیں ان میں بہت سے امراض پیدا کرنے والے بیکٹیریا ہیں
،تصویر کا کیپشناولمپکس مقابلوں کے لیے ریو کی خلیج میں جو بحری راستے منتخب کیے جا رہے ہیں ان میں بہت سے امراض پیدا کرنے والے بیکٹیریا ہیں

ابھی تک پانی صاف کرنے کے آٹھ پلانٹس میں سے صرف ایک پلانٹ تیار ہوسکا ہے۔

برازیل کی کشتی راں اور اولمپک میڈل جیتنے والی ایزابیل سوان ان مظاہروں کی منتظمین میں سے ایک ہیں۔

انھوں نے سنہ 2008 میں بیجنگ میں ہونے والے اولمپکس میں حصہ لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے پانی میں بہت زیادہ کائی تھی لیکن ان سے مقابلے کے دو مہینے قبل نمٹ لیاگیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ریو شہر اور صوبے اپنے عہد کی پاسداری نہ کر سکے جس پر انھیں ’بہت دکھ‘ ہے۔

ایزابیل نے کہا: ’یہ اہم ہے کہ ہم اپنے بچوں اور برازیل کے عوام کے لیے وراثت چھوڑ جائیں۔ ریو میں اولمپکس کروانا بہت اہم ہے لیکن ہم اپنی خلیج کو صاف کرنے کے اہل نہ ہو سکے۔‘

آلودگی کی مختلف وجوہات ہیں جن میں شہر کی نالیوں اور فیکٹریوں کا پانی بھی شامل ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآلودگی کی مختلف وجوہات ہیں جن میں شہر کی نالیوں اور فیکٹریوں کا پانی بھی شامل ہے

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک ایسی تحریک شروع کرنا چاہتی ہوں جو لوگوں کو گوانابارا خلیج کے دفاع کے لیے تحریک دے اور حکومت کو اسے صاف کرنے کا حقیقی عہد لینے میں مددگار ثابت ہو۔‘

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق اولمپکس مقابلوں کے لیے ریو کی خلیج میں جو بحری راستے منتخب کیے جا رہے ہیں ان میں بہت سے امراض پیدا کرنے والے بیکٹیریا ہیں اور وہ انسانوں سے براہ راست منسلک ہیں۔

سرجیو ریکارڈو ایک ایکولوجسٹ ہیں اور بہیا ویوا (زندہ خلیج) تحریک کے بانی ہیں ان کا کہنا ہے کہ آلودگی کے کئی محرکات ہیں۔

انھوں نے کہا: ’سب سے بڑا چیلنج نالیوں کی صفائی اور صنعتی کنٹرول ہے۔ خلیج میں تیل کی صنعت ماہی گیروں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ہمیں ماہی گیری پر سرکاری پالیسی چاہیے جس کے تحت جنگلات لگائے جائیں اور نالیوں کی صفائی ہو تاکہ خلیج زندہ رہ سکے۔‘