’پسٹوریئس نے سزا کاٹ لی تو پیرالمپک میں شرکت ممکن‘

،تصویر کا ذریعہ
بین الاقوامی پیرالمپک کمیٹی (آئی پی سی) نے یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کے ایتھلیٹ آسکر پسٹوريئس کو سنہ 2016 میں ریو میں ہونے والے پیرالمپک مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے گي بشرطیکہ وہ جیل میں نہ ہوں۔
27 سالہ ایتھلیٹ کو جمعے کے روز جج نے اپنی ساتھی کو ہلاک کرنے کے الزام میں قتلِ خطا کا مجرم قرار دیا ہے تاہم انھیں قتلِ عمد کے علاوہ کچھ دیگر الزامات سے بری بھی کیا گیا ہے۔
اس معاملے میں سزا 13 اکتوبر کو سنائی جائے گي اور قتلِ خطا پر انھیں 15 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
تاہم آئی پی سی کا کہنا ہے کہ پسٹوریئس اگر جیل میں نہ ہوں تو وہ آئندہ پیرالمپکس میں حصہ لے سکتے ہیں۔
آئی پی سی کے ترجمان کریگ سپینس نے کہا: ’ہم ان کے راستے میں حائل نہیں ہوں گے۔‘
’بلیڈ رنر‘ کے نام سے بھی معروف آسکر پسٹوریئس نے اب تک تین پیرالمپکس میں چھ طلائی تمغے حاصل کیے اور جب انھوں نے اولمپکس میں شرکت کی تو وہ دنیا کے پہلے ایسے شخص تھے جو پاؤں کے کٹ جانے کے باوجود دوڑ میں حصہ لے رہے تھے۔
آئی پی سی کے ڈائریکٹر میڈیا اور کمیونیکیشنز سپینس نے کہا کہ تنظیم ریوا سٹین کیمپ کے اہل خانہ اور ان کے دوستوں کے خیالات کے ساتھ تھی۔
لیکن انھوں نے کہا کہ اگر پسٹوریئس اپنی سزا پوری کر لیتے ہیں اور ریو گیمز میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو آئی پی سی انھیں نہیں روکے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی کے سپورٹس صحافی ڈین رون سے بات کرتے ہوئے سپینس نے کہا: ’اگر وہ اپنی سزا پوری کر لیتے ہیں تو آئی پی سی کے آئندہ مقابلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
’پہلے تو آسکر کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ حصہ لینا چاہتے ہیں پھر انھیں جنوبی افریقہ کی قومی پیرالمپک کمیٹی کی جانب سے منتخب کیا جائے گا۔
’اگر وہ اپنی سزا ریو میں ہونے والے مقابلے سے قبل پوری کر لیتے ہیں تو پھر فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہوگا۔‘
لیکن سابق پیرالمپیئن بیرونس ٹینی گرے تھامسن کا خیال ہے کہ اگر پسٹوریئس اپنی سزا پوری بھی کرلیتے ہیں اور انھیں جنوبی افریقہ کی نمائندگی لیے منتخب بھی کر لیا جاتا ہے تو بھی ان کے لیے گیمز میں شامل ہونا مشکل ہوگا۔
11 بار طلائی طمغہ حاصل کرے والے تھامسن نے کہا: ’اس وقت تک ان کا ٹریننگ اور مقابلے کا بہت سا وقت نکل چکا ہوگا۔ ان کے سپانسر بھی نہیں ہوں گے۔ مالی طور پر انھیں مشکلات کا سامنا ہوگا۔‘
دریں اثنا آئي پی سی کے چیف اگزیکیٹیو زیویئر گوزالیز پر اعتماد ہیں کہ پسٹوریئس کا مجرم قرار دیا جانا پیرالمپک کی مہم کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔



