’ریو اولمپکس سے قبل ساحل سمندر کی صفائی بڑا چیلنج‘

کشتی رانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے گوانابارا کے ساحل پر ایسی آلودگی دیکھی ہے جن میں فرنیچر اور مردہ جانوروں کے اجسام شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکشتی رانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے گوانابارا کے ساحل پر ایسی آلودگی دیکھی ہے جن میں فرنیچر اور مردہ جانوروں کے اجسام شامل ہیں

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر کا کہنا ہے کہ برازیل کے شہر ریو کے آلودہ ساحل سمندر کے اس حصے کو صاف کرنا ایک بڑا چیلنج ہے جہاں 2016 کے اولمپکس کے دوران کشتی رانی اور ونڈ سرفنگ کے مقابلے منعقد ہونے ہیں۔

کشتی رانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے گوانابارا کے ساحل پر ایسی آلودگی دیکھی ہے جن میں فرنیچرز اور مردہ جانوروں کے اجسام شامل ہیں۔

برازیل کے اس شہر کا تقریباً 70 فیصد آلودہ پانی سمندر میں شامل ہوتا ہے۔

اولمپک کمیٹی کے صدر تھومس بیک کا کہنا ہےکہ’کھیلوں کی تیاریاں تو جاری ہیں لیکن بہت سے چیلنچ بھی درپیش ہیں جن میں سر فہرست ساحل کی صفائی ہے۔‘

ریو کی مقامی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ پانچ اگست 2016 سے شروع ہونے والے اولمپک مقابلوں سے قبل وہ گوانابارا ساحل پر موجود آلودگی کو 80 فیصد تک ختم کرنے کے ہدف کو حاصل نہیں کر پائے گی۔

تھومس بیک کا کہنا ہے کہ پانی کی صفائی کے لیے کچھ اقدامات تو شروع کر دیے ہیں جبکہ ایتھلیٹس کی حفاظت اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ’باقی اقدامات اولمپکس شروع ہونے سے کچھ وقت پہلے کیے جائیں گے۔‘

جرمن کا کہنا ہے کہ ریو میں بین الاقوامی براڈکاسٹ سینٹر کو مکمل کرنے کے مطالبے ’بہت مشکل‘ تھے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اولمپکس ولیج اور دوسری کھیلوں کی سہولیات میں ’اچھی پیش رفت‘ ہوئی ہے۔

ان کا کہا ہے کہ’ہم پر امید ہیں کہ ہمیں آئندہ سال کھیلوں کے اچھے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے لیکن درپیش چیلنجوں سے نمٹنا پہلا اور اہم قدم ہے۔‘