اولمپکس میں 28 کھیلوں کی حد کا خاتمہ

یہ فیصلہ مناکو میں انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے دو روزہ اجلاس میں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ فیصلہ مناکو میں انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے دو روزہ اجلاس میں کیا گیا

اولمپکسس کھیلوں کے انعقاد کو میزبان شہروں کے لیے کم خرچ بنانے اور اس میں لچک پیدا کرنے کی غرض سے اولپمک کے سینیئر افسران کچھ تبدیلیوں پر رضامند ہو گئے ہیں۔

یہ فیصلہ مناکو میں انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے دو روزہ اجلاس میں کیا گیا۔

حاضرین نے کھیلوں کے اخراجات اور مختلف ملک کی جانب سے اپنے ہاں کھیل منعقد کروانے کے لیے بولی لگانے سے متعلق تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے اولمپکس مقابلے دو ملکوں کے درمیان تقسیم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اس کے علاوہ کمیٹی کے ارکان نے موسم گرما اور موسم سرما، دونوں کے اولمپکس مقابلوں میں اضافی کھیل شامل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب آئندہ اولمپکس مقابلوں میں 28 سے زیادہ کھیلوں کے کھلاڑی حصہ لے سکیں گے، تاہم ارکان نے یہ پابندی لگائی ہے کہ اولمپکس میں 1,500 سے زیادہ کھلاڑی حصہ نہیں لے سکتے۔

ان تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ اب بیس بال، سکواش اور کراٹے جیسے کھیل بھی اولمپکس مقابلوں میں متعارف کرائے جا سکیں گے، تاہم اس کے لیے موجودہ کھیلوں کے مقابلوں کی تعداد کو کم کرنا ہوگا۔

کمیٹی کے ارکان نے موسم گرما اور موسم سرما، دونوں کے اولمپکس مقابلوں میں اضافی کھیل شامل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکمیٹی کے ارکان نے موسم گرما اور موسم سرما، دونوں کے اولمپکس مقابلوں میں اضافی کھیل شامل کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے بعد اب ان شہروں کے لیے بولی میں حصہ لینا آسان ہو جائے گا جو اولمپکس کی میزبانی کے خواہشمند ہیں لیکن زیادہ اخراجات یا کسی دوسری انتظامی وجہ سے ایسا نہیں کر پاتے تھے۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے رکن فرینکو کرارو کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے تازہ ترین فیصلوں کے بعد کھیلوں کے انعقاد کے نظام میں لچک آ جائے گی جس سے کئی مممالک فائدہ اٹھا سکیں گے۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کے فیصلوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سکواش فیڈریشن کے صدر نرائنا رامچندرن نے کہا ’ میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ سکواش کو اولمپکس میں شامل کرنے کے لیے اولمپکس کے دروازے پر دستک دیتا رہوں گا۔ اب میں دیکھ سکتا ہوں کہ اس دروازے کی دراڑوں سے ہلکی ہلکی روشنی آنا شروع ہو گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ صاف ظاہر ہے میں اس پر بہت خوش ہوں۔ تاہم اس وقت ہمیں یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ ہماری خواہش پوری ہوگئی ہے۔ ہاں ہمیں امید ضرور ہے کہ انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے جن تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے ان کی روشنی میں ہمارے خواب جلد پورے ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2022 کے سرمائی اولمپکس کے لیے جو چھ ممالک بولی میں حصہ لینا چاہتے تھے ان سب کو مالی تحفظات کی وجہ سے بولی سے باہر کر دیا گیا تھا۔

اب یہ ممکنہ میزبان اضافی مالی معاونت حاصل کر سکیں گے اور انھیں مجـوزہ شہروں کے علاوہ دوسرے شہروں یا دوسرے ملک میں کھیل منعقد کرانے کی اجازت بھی دی جا سکے گی۔