ناتجربہ کاری سری لنکا کی شکست کی وجہ بنی

شاہد آفریدی آؤٹ ہو کر شعیب ملک کو نصف سنچری کے چانس سے محروم کرگئے کیونکہ اننگز کی ایک ہی گیند باقی رہ گئی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی آؤٹ ہو کر شعیب ملک کو نصف سنچری کے چانس سے محروم کرگئے کیونکہ اننگز کی ایک ہی گیند باقی رہ گئی تھی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیتنے کے قریب آگئی ہے۔

دو میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم نے نئے چہروں کے ساتھ میدان میں اترنے والی عالمی نمبر ایک سری لنکن ٹیم کو 29 رنز سے شکست دے دی۔

یہ شاہد آفریدی کی 26 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں12ویں کامیابی تھی۔ وہ اس طرز کی کرکٹ میں 14 میچز ہار بھی چکے ہیں۔

اگر پاکستانی ٹیم نے دوسرا ٹی ٹوئنٹی بھی جیت لیا تو وہ آئی سی سی کی عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پانچویں سے تیسرے نمبر پر آجائے گی۔

سری لنکا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے کا خلا اتنی جلدی پر نہیں ہوسکتا۔

اس کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ متواتر میچز بھی چاہییں لیکن گزشتہ سال ڈھاکہ میں آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے بعد سے سولہ ماہ میں سری لنکا نے صرف ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا ہے۔

اب جبکہ آئندہ سال اسے اپنے عالمی اعزاز کا دفاع کرنا ہے لہذا سلیکٹرز نئے کھلاڑیوں کو آزما کر ٹیم کو بہتر شکل دینے میں مصروف ہیں۔

اس میچ میں بھی سری لنکا نے تین نئے کھلاڑیوں کو آزمایا جبکہ بھولے بسرے کاپوگدیرا بھی سلیکٹرز کو یاد آگئے۔

پاکستانی ٹیم سے نائب کپتان سرفراز احمد آرام کے نام پر بٹھا دیے گئے۔ یہ فیصلہ اس لیے حیران کن ہے کہ ایک ایسا بیٹسمین جو زبردست فارم میں ہو اسے کیسے بٹھایا جاسکتا ہے۔

سرفراز احمد کے نہ کھیلنے کا ذمہ دار ایک بار پھر مبصرین کوچ وقاریونس کو قرار دے رہے ہیں جو حالیہ دنوں میں سرفراز احمد کو ڈراپ کرنے کے سلسلے میں پہلے بھی تنقید کی زد میں رہ چکے ہیں۔

عمر اکمل نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 24 گیندوں پر46 رنز کی اننگز میں تین چوکے اور تین چھکے لگائے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعمر اکمل نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 24 گیندوں پر46 رنز کی اننگز میں تین چوکے اور تین چھکے لگائے

بہتر تھا کہ سرفراز احمد کو اس میچ میں کھلا کر آخری میچ میں رضوان کو کیپنگ گلوز تھما دیے جاتے۔

اگر اس ٹیم میں کسی کھلاڑی کی جگہ نہیں بن رہی تھی تو وہ محمد حفیظ تھے جو بلاشبہ ون ڈے سیریز میں بہت کامیاب رہے تھے لیکن نومبر 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں نصف سنچری کے بعد سے بارہ اننگز میں ایک بھی نصف سنچری سکور نہیں کر سکے ہیں۔

اب جبکہ وہ بولنگ بھی نہیں کر سکتے انہیں ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے غیر معمولی بیٹنگ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

پاکستانی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹوں پر 175 رنز بنائے جس میں شعیب ملک، احمد شہزاد اور عمر اکمل نے 46، 46 رنز بنائے۔

شاہد آفریدی آؤٹ ہو کر شعیب ملک کو نصف سنچری کے چانس سے محروم کرگئے کیونکہ اننگز کی ایک ہی گیند باقی رہ گئی تھی۔

احمد شہزاد نے مالنگا کو آسان کیچ دے کر اپنی وکٹ خود گنوائی۔

عمر اکمل جو سلیکٹرز کو ناراض کر کے ویسٹ انڈیز چلے گئے تھے کپتان شاہد آفریدی کی گڈ بک میں رہنے کی وجہ سے ٹیم میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

انھوں نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 24 گیندوں پر46 رنز کی اننگز میں تین چوکے اور تین چھکے لگائے۔

سری لنکا کی اننگز میں تجربہ کار دلشن اور آتش فشاں پریرا کی توپیں خاموش کرکے پاکستانی ٹیم نے مڈل آرڈر بیٹنگ کی ناتجربہ کاری کو ایکسپوز کردیا۔

سہیل تنویر تین وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر رہے۔ وہ 21 میچوں کے بعد وہ کسی ٹی ٹوئنٹی میچ میں تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔