پاکستان نے زمبابوے کو 41 رنز سے شکست دے دی

،تصویر کا ذریعہAP
لاہور میں کھیلے جانے والے پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو 41 رنز سے شکست دے کر تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
376 رنز کے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 334 رنز بنائے۔
زمبابوے کی اننگز کی خاص بات ایلٹن چگمبورہ کی شاندار سنچری تھی، انھوں نے 10 چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 117 رنز بنائے۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/90124" platform="highweb"/></link>
پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض نے تین، انور علی اور شعیب ملک نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کے شعیب ملک کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
اس سے قبل پاکستان نے ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت زمبابوے کو فتح کے لیے 376 رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستانی سرزمین پر چھ برس کے وقفے کے بعد کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں طویل وقفے کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے شعیب ملک نے اپنے کریئر کی آٹھویں سنچری بنائی۔
شعیب کے علاوہ کپتان اظہر علی، محمد حفیظ اور حارث سہیل کی نصف سنچریوں کی بدولت میزبان ٹیم مقررہ 50 اوورز میں صرف تین وکٹوں کے نقصان پر 375 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔
یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا اور قذافی سٹیڈیم میں بننے والا سب سے بڑا مجموعی سکور ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
منگل کو پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو اوپنرز اظہر علی اور محمد حفیظ نے نصف سنچریاں بنائیں۔
ان دونوں بلے بازوں نے آغاز میں محتاط انداز اپنایا اور اننگز کا پہلا چوکا چھٹے اوور میں لگا تاہم اس کے بعد دونوں نے متعدد دلکش سٹروک کھیل کر رن بنانے کی اوسط بہتر بنائی۔
ان دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے 170 رنز کی شراکت قائم کی جس کا خاتمہ پروپر اتسیا نے اظہر علی کو کیچ کروا کے کیا۔ انھوں نے نو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 79 رنز کی اننگز کھیلی۔
اظہر کے پویلین لوٹنے کے بعد اتسیا کے اگلے ہی اوور میں حفیظ بھی 86 رنز بنانے کے بعد بولڈ ہوگئے۔
اس موقع پر شعیب ملک اور حارث سہیل نے شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور دوسری وکٹ کے لیے 201 رنز کی شراکت قائم کر دی۔
اس دوران شعیب ملک چھ برس کے بعد سنچری مکمل کرنے میں کامیاب رہے اور 112 رنز بنانے کے بعد اننگز کی آخری گیند پر آؤٹ ہوئے جبکہ حارث سہیل نے 89 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ نہ صرف اظہر علی کا بطور کپتان پاکستانی سرزمین پر پہلا میچ ہے بلکہ یہ پاکستان میں چھ برس کے وقفے کے بعد منعقد ہونے والا پہلا ایک روزہ کرکٹ میچ بھی ہے۔
سنہ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ میچ منعقد نہیں ہو سکے تھے اور چھ برس تک پاکستانی ٹیم اپنی ہوم سیریز بیرون ملک کھیلنے پر مجبور رہی۔
زمبابوے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی وہ پہلی ٹیم ہے جس نے اس جمود کو توڑا اور پاکستان کے دورے پر آمادگی ظاہر کی۔
اس دورے میں اب تک دو ٹی 20 میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستانی ٹیم فتح یاب رہی اور اب منگل سے تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس کرکٹ سیریز کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن ان انتظامات کے باوجود شائقین کا جوش وخروش بھی غیر معمولی ہے اور 27 ہزار تماشائیوں کی گنجائش والا قذافی سٹیڈیم ٹی ٹوئنٹی میچوں کی طرح منگل کو بھی کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
پاکستان اس وقت ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہے اور اسے آٹھویں نمبر پر موجود بنگلہ دیش کی ٹیم سے پوائنٹس کا فرق برقرار رکھنے کے لیے یہ سیریز تین صفر سے جیتنا ہوگی۔
زمبابوے کی ٹیم آج تک پاکستان کو ون ڈے کرکٹ سیریز میں شکست نہیں دے سکی ہے اور دونوں ٹیموں کے مابین اب تک 48 میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے پاکستان نے 45 اور زمبابوے نے تین جیتے ہیں۔



