پاکستان اور زمبابوے لاہور میں مدِمقابل

پاکستانی سرزمین پر چھ برس کے وقفے کے بعد کھیلے جانے والے ون ڈے انٹرنیشنل کی تصاویر

 لاہور میں کھیلے جانے والے پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو 41 رنز سے شکست دے کر تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
،تصویر کا کیپشن لاہور میں کھیلے جانے والے پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو 41 رنز سے شکست دے کر تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
376 رنز کے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 334 رنز بنائے۔
،تصویر کا کیپشن376 رنز کے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 334 رنز بنائے۔
کپتان چگمبورا جب تک کریز پر رہے پاکستانی بولرز پریشان ہی رہے انھوں نے حماد اعظم کے گرائے گئے کیچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری بنائی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کی زد میں جو بھی آیا اسے خود کو بچانا مشکل ہوگیا۔ خاص کر محمد سمیع کے لیے ٹی ٹوئنٹی میچوں کی طرح اس بار بھی رنز روکنا ممکن نہ رہا۔ چگمبورا نے ان کے ایک اوور میں تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 22 رنز بنا ڈالے۔
،تصویر کا کیپشنکپتان چگمبورا جب تک کریز پر رہے پاکستانی بولرز پریشان ہی رہے انھوں نے حماد اعظم کے گرائے گئے کیچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پہلی سنچری بنائی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کی زد میں جو بھی آیا اسے خود کو بچانا مشکل ہوگیا۔ خاص کر محمد سمیع کے لیے ٹی ٹوئنٹی میچوں کی طرح اس بار بھی رنز روکنا ممکن نہ رہا۔ چگمبورا نے ان کے ایک اوور میں تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 22 رنز بنا ڈالے۔
زمبابوے نے 65 رنز پر دو وکٹیں گنوانے کے بعد مازاکادسا اور کپتان چگمبورا کے ذریعے پاکستانی بولنگ کو کڑے وقت سے گزارا لیکن ان کے درمیان124 رنز کی شراکت شعیب ملک کے ہاتھوں ٹوٹنے کے بعد مہمان ٹیم کے لیے بڑھتے ہوئے رنز اوسط کو اپنی مٹھی میں کرنا مشکل ہوتا چلا گیا۔
،تصویر کا کیپشنزمبابوے نے 65 رنز پر دو وکٹیں گنوانے کے بعد مازاکادسا اور کپتان چگمبورا کے ذریعے پاکستانی بولنگ کو کڑے وقت سے گزارا لیکن ان کے درمیان124 رنز کی شراکت شعیب ملک کے ہاتھوں ٹوٹنے کے بعد مہمان ٹیم کے لیے بڑھتے ہوئے رنز اوسط کو اپنی مٹھی میں کرنا مشکل ہوتا چلا گیا۔
 شعیب ملک نے اپنی سنچری صرف 70 گیندوں پر مکمل کی جو پاکستان کی سر زمین پر اعجاز احمد کی 68 گیندوں کے بعد کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی دوسری تیز ترین سنچری ہے انھوں نے آخری بار ستمبر سنہ 2009 میں بھارت کے خلاف سنچورین میں سنچری بنائی تھی جس کے بعد 30 اننگز بغیر کسی نصف سنچری کے کھیل کر اب انھوں نے تین ہندسوں کی یہ اننگز کھیلی ہے۔
،تصویر کا کیپشن شعیب ملک نے اپنی سنچری صرف 70 گیندوں پر مکمل کی جو پاکستان کی سر زمین پر اعجاز احمد کی 68 گیندوں کے بعد کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی دوسری تیز ترین سنچری ہے انھوں نے آخری بار ستمبر سنہ 2009 میں بھارت کے خلاف سنچورین میں سنچری بنائی تھی جس کے بعد 30 اننگز بغیر کسی نصف سنچری کے کھیل کر اب انھوں نے تین ہندسوں کی یہ اننگز کھیلی ہے۔
لاہور میں پاکستانی کپتان اظہر علی نے پاکستانی سرزمین پر بطور کپتان اپنے پہلے ون ڈے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنلاہور میں پاکستانی کپتان اظہر علی نے پاکستانی سرزمین پر بطور کپتان اپنے پہلے ون ڈے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
زمبابوے کے بولروں نے ابتدائی اوورز میں نپی تلی بولنگ کی اور پاکستان کی اننگز کا پہلا چوکا چھٹے اوور میں لگا۔
،تصویر کا کیپشنزمبابوے کے بولروں نے ابتدائی اوورز میں نپی تلی بولنگ کی اور پاکستان کی اننگز کا پہلا چوکا چھٹے اوور میں لگا۔
اظہر علی بطور کپتان پاکستان میں اپنے پہلے ون ڈے میچ میں نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے
،تصویر کا کیپشناظہر علی بطور کپتان پاکستان میں اپنے پہلے ون ڈے میچ میں نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے
محمد حفیظ نے بھی نصف سنچری بنائی اور 86 رنز کی اننگز کھیلی۔ انھوں نے اظہر کے ساتھ مل کر پہلے وکٹ کے لیے 170 رنز بنائے۔
،تصویر کا کیپشنمحمد حفیظ نے بھی نصف سنچری بنائی اور 86 رنز کی اننگز کھیلی۔ انھوں نے اظہر کے ساتھ مل کر پہلے وکٹ کے لیے 170 رنز بنائے۔
اس سیریز کے لیے آئی سی سی کی جانب سے نیوٹرل امپائر بھیجنے سے انکار کے بعد زمبابوے اور پاکستان کے امپائر ہی ذمہ داریاں نبھاتے نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشناس سیریز کے لیے آئی سی سی کی جانب سے نیوٹرل امپائر بھیجنے سے انکار کے بعد زمبابوے اور پاکستان کے امپائر ہی ذمہ داریاں نبھاتے نظر آئے۔
ٹی 20 میچوں کی طرح ون ڈے میچ میں بھی قذافی سٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جن میں سے متعدد نے کرکٹ کے علاوہ دیگر پیغامات پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے۔
،تصویر کا کیپشنٹی 20 میچوں کی طرح ون ڈے میچ میں بھی قذافی سٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جن میں سے متعدد نے کرکٹ کے علاوہ دیگر پیغامات پر مبنی بینر بھی اٹھا رکھے تھے۔