دلچسپ مقابلے میں پاکستان کی دو وکٹوں سے جیت

 اوپنر احمد شہزاد اور مختار احمد نے جارحانہ بیٹنگ کا آغاز کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن اوپنر احمد شہزاد اور مختار احمد نے جارحانہ بیٹنگ کا آغاز کیا

پاکستان کے شہر لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے ٹی 20 کرکٹ میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو دو وکٹوں سے شکست دے کر سیریز دو صفر سے جیت لی

زمبابوے نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا ہے۔

پاکستان نے مطلوبہ ہدف19.4 اوورز میں پورا کر کے دوسرے ٹی 20 میچ میں بھی کامیابی حاصل کر لی۔ پاکستان کی جانب سے اوپنر مختار احمد نےسب سے زیادہ 62 رنز بنائے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔

زمبابوے نے اپنی اننگز کے آغاز میں عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔ زمبابوے کی جانب سے اننگز کا آغاز سیبانڈا اور مازاکادسا نے کیا اور 68 کے مجموعی سکور پر زمبابوے کی پہلی وکٹ گری۔

پاکستانی بولر شعیب ملک نے زمبابوے کے اوپنر مازاکادسا کو 34 رنز پر آوٹ کیا جبکہ سیبانڈا کو 49 رنز پر شاہد آفریدی نے آوٹ کیا۔

زمبابوے کے 176 رنز کے ہدف جواب میں اوپنر احمد شہزاد اور مختار احمد نے جارحانہ بیٹنگ کا آغاز کیا لیکن 4.5 اورز میں 44 کے مجموعی سکور پر اوپنر احمد شہزاد کو زمبابوے کے بولر ووٹری نے آوٹ کر دیا۔ انھوں نے 18 رنز بنائے تھے۔ پاکستان کی دوسری وکٹ 81 کے مجموعی سکور پر گری۔

قذافی سٹیڈیم میں 27 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے اور پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کی طرح دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی سٹیڈیم شائقین کرکٹ سے بھرا ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقذافی سٹیڈیم میں 27 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے اور پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کی طرح دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی سٹیڈیم شائقین کرکٹ سے بھرا ہوا تھا

نعمان انور کے آوٹ ہونے کے بعد شعیب ملک بیٹنگ کے لیے آئے لیکن وہ بھی سات رنز بنا کر رن آوٹ ہو گئے۔ 117 کے مجموعی سکور پر پاکستان کی چوتھی وکٹ اُس وقت گری جب اوپنر مختار احمد 62 رنز بنا کر آوٹ ہوئے۔ عمر اکمل نے 30 رنز بنائے جب کپتان شاہد آفریدی 7 رنز بنا کر آوٹ ہوئے ہیں۔

میچ کے آخری اورز میں پاکستان کی پے در پے وکٹیں گرتی گئی اور لیکن آخری اوور میں بلاول بھٹی نے چھکا مار کر ٹیم کو فتح سے قریب کر دیا۔

پاکستان میں چھ سال کے طویل وقفے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کا 22 مئی کو کھیلے جانے والے میچ سے آغاز ہوا تھا۔

پاکستان کی جانب سے شعیب ملک، شاہد آفریدی اور محمد سمیع نے ایک ایک وکٹ لی۔

پاکستان ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

دو میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پاکستان پانچ وکٹوں سے جیت گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشندو میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پاکستان پانچ وکٹوں سے جیت گیا تھا

ٹیم میں پہللا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے والے سرفرار احمد، محمد حفیظ اور وہاب ریاض کی جگہ محمد رمضان، عماد نسیم اور نعمان انور کو شامل کیا گیا۔

دو میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پاکستان پانچ وکٹوں سے جیت گیا تھا۔

زمبابوے ٹیسٹ رکنیت رکھنے والی پہلی ٹیم ہے جو تین مارچ سنہ 2009 کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کے دورے پر آئی ہے۔

اس سیریز کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود شائقین کا جوش وخروش بھی غیرمعمولی ہے جنھیں چھ سال کے صبر آزما انتظار کے بعد بین الاقوامی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ قذافی سٹیڈیم میں 27 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے اور پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کی طرح دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی سٹیڈیم شائقین کرکٹ سے بھرا ہوا تھا۔