بالآخر بنگلہ دیش کو یہ موقع ہاتھ آ ہی گیا

یہ شکست درحقیقت پاکستانی کرکٹ کے تبدیل شدہ چہرے کا نتیجہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ شکست درحقیقت پاکستانی کرکٹ کے تبدیل شدہ چہرے کا نتیجہ ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بنگلہ دیشی کرکٹ کو سولہ سال سے جس لمحے کا شدت سے انتظار تھا وہ آ ہی گیا۔

میرپور کے شیربنگلہ سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے سٹیڈیم میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو 79 رنز سے شکست ہوگئی۔

یوں 1999 کے عالمی کپ کے بعد پاکستان کو دوبارہ ہرانے کا بنگلہ دیشی خواب حقیقت میں بدل دیا۔

لیکن ہر کوئی یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس شکست پر نہ بھنڈاری کمیشن جیسا کوئی کمیشن بنے گا اور نہ ہی کوئی طوفان مچے گا کیونکہ یہ شکست 1999 کے عالمی کپ کی طرح شک کی نظر سے دیکھی جانے والی نہیں ہے ۔

یہ شکست درحقیقت پاکستانی کرکٹ کے تبدیل شدہ چہرے کا نتیجہ ہے جس میں صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خامیوں کو جتنی جلد دور کیا جا سکے اتنا ہی اچھا ہوگا۔

یہ تبدیلی مصباح الحق اور شاہد آفریدی جیسے انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے دو بڑے کھلاڑیوں کی ون ڈے سے رخصتی کی وجہ سے عمل میں آئی ہے جس کے بعد پاکستانی ٹیم کی قیادت ایک ایسے کرکٹر کو سونپی گئی ہے جو خود دو سال بعد پہلی بار ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رہا ہے جبکہ اس ٹیم میں دو نئے کھلاڑیوں سعد نسیم اور محمد رضوان سمیت سات کھلاڑی ایسے تھے جو کسی نہ کسی وجہ سے ٹیم سے باہر رہنے کے بعد دوبارہ شامل ہوئے ہیں۔

ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں شین واٹسن اور گلین میکسویل کے ڈراپ کیچز پاکستانی ٹیم کو مہنگے پڑے تھے۔ اس بار سعد نسیم کا تمیم اقبال کو اپنی ہی گیند پر ڈراپ کرنا اور جنید خان کا اظہرعلی کی گیند پر مشفق الرحیم کا کیچ گرانا پاکستانی ٹیم پر بجلی بن کر گرا کیونکہ یہ دونوں نہ صرف سنچریاں بناگئے بلکہ انہی دونوں کی 178 رنز کی شراکت نے جو بنگلہ دیش کی ون ڈے کی سب سے بڑی شراکت بھی تھی 329 رنز کا سکور بھی کھڑا کردیا جو ون ڈے انٹرنیشنل میں بنگلہ دیش کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔

ورلڈ کپ میں پاکستانی بولرز میں سب سے کامیاب وہاب ریاض اس میچ میں بھی چار وکٹوں کےساتھ قابل ذکر رہے لیکن گھٹنے کی تکلیف کے بعد دوبارہ ٹیم میں شامل ہونے والے جنید خان اور راحت علی کوئی خاص تاثر نہ چھوڑ سکے۔

اس میچ میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز سعید اجمل تھے جو آٹھ ماہ بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئے ہیں لیکن انہیں اب اندازہ ہوگیا ہوگا کہ بدلتے بولنگ ایکشن نے ان کی کرکٹ کتنی بدل دی ہے۔

سعید اجمل نے اپنی تیسری ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کے ذریعے تمیم اقبال کی وکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پہلے سپیل کے پانچ اوورز میں صرف گیارہ رنز دینے کے بعد جب وہ دوسرے سپیل میں بولنگ کے لیے آئے تو کسی کو توقع نہیں تھی کہ وہ اتنے غیرموثر اور مہنگے ثابت ہونگے کہ اپنی بولنگ پر سب سے زیادہ رنز دینے کا نیا ریکارڈ قائم کردیں گے۔

تمیم اقبال اور مشفق الرحیم نے یہ جان کر کہ ان کی بولنگ میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا اور ان کی مایوسی کو اپنی انتہا تک پہنچادیا۔

یہ سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم ہدف کے تعاقب میں کمزور ہے اور پھر ایک نئی بیٹنگ لائن کے لیے330 رنز کا ہدف اسوقت مزید مشکل ہوگیا کہ جب سرفراز احمد اور محمد حفیظ کی وکٹیں جلد گرگئیں۔

کپتان اظہرعلی کے بارے میں شاید ٹیم منیجمنٹ نے طے کر لیا ہے کہ ون ڈے ٹیم میں ان کی جگہ اوپنر کی حیثیت سے ہی بنانی ہے حالانکہ محمد حفیظ اور سرفراز احمد اوپنرز کے طور پر موجود ہیں۔

یقیناً بنگلہ دیشی ٹیم نے پہلے ون ڈے میں کامیابی حاصل کرکے اپنے شائقین کو جشن منانے کا خوب موقع فراہم کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیقیناً بنگلہ دیشی ٹیم نے پہلے ون ڈے میں کامیابی حاصل کرکے اپنے شائقین کو جشن منانے کا خوب موقع فراہم کر دیا ہے

اظہرعلی نے فی گیند ایک رن کے حساب سے بیٹنگ کی لیکن ان کا آؤٹ ہونا پاکستانی ٹیم کے لیے دھچکہ تھا کیونکہ اس کے بعد مڈل آرڈر بیٹنگ ہل گئی۔

حارث سہیل نے اگرچہ نصف سنچری بنائی لیکن ان کا مرض وہی پرانا ہے کہ ایک اچھے سٹارٹ کو بڑی اننگز میں تبدیل نہ کرنا۔

صہیب مقصود کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے سعد نسیم کے لیے اپنا پہلا ون ڈے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا کہ اپنی ہی گیند پر کیچ گرا کر پہلی وکٹ سے خود کو محروم کیا اور پھر بیٹنگ میں صرف چار گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اسی طرح فواد عالم جنہوں نے گزشتہ سال اسی میدان میں میلہ لوٹا تھا اس بار ناکام رہے البتہ محمد رضوان نے اپنا ٹیلنٹ دکھایا او115 ہ کے سٹرائیک ریٹ سے نصف سنچری سکور کی۔

پاکستانی ٹیم مختلف مسائل کے بعد نئی شکل میں ضرور میدان میں اتری لیکن جیت جیت ہوتی ہے اور یقیناً بنگلہ دیشی ٹیم نے پہلے ون ڈے میں کامیابی حاصل کرکے اپنے شائقین کو جشن منانے کا خوب موقع فراہم کر دیا ہے۔