سیمی فائنل میں بھارتی شکست کی پانچ وجوہات

،تصویر کا ذریعہAFP
ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مقابلے میں بھارت کی ٹیم آسٹریلیا سے شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا جیسی ٹیم کو اسی کی سرزمین پر شکست دینا اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ لیکن ہندوستان کی ٹیم پہلے گیند بازی اور پھر بلے بازی میں ناکام رہی۔
آئیے نظر ڈالتے ہیں ان پانچ وجوہات پر جو بھارت کی شکست کی اہم وجہ بنیں۔
1: ٹاس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کرکٹ کے ماہرین پہلے سے ہی یہ بات کہہ رہے تھے کہ سڈنی کی پچ پر ٹاس جیتنا بہت اہم ہے۔ آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔
بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے بھی کہا کہ ٹاس جیت کر وہ بھی بلے بازی ہی کرتے لیکن ٹاس آسٹریلیا نے جیتا اوران کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔
آسٹریلیا نے سات وکٹ کے نقصان پر 328 رنز کا بڑا سکور کھڑا کیا۔
2: سٹیو سمتھ

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت نے آسٹریلیا کی پہلی وکٹ جلد ہی گرا دی تھی۔ ڈیوڈ وارنر کچھ خاص نہیں کر پائے۔ لیکن اس کے بعد آرون فنچ اور سٹيو سمتھ نے آسٹریلوی اننگز کو نہ صرف سنبھالا دیا بلکہ زبردست بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔
سمتھ نے ون ڈے میچ کی اپنی چوتھی سنچری بنائی اور آسٹریلیا کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے صرف 93 گیندوں پر 105 رنز سکور کیے۔ سمتھ نے دوسری وکٹ کے لیے فنچ کےساتھ 182 رنز کی شراکت بھی کی۔
3: بھارتی بولنگ

،تصویر کا ذریعہAFP
سڈنی کی پچ کو سمجھنے میں بھارتی گیند باز ناکام رہے۔ انہوں نے شارٹ پچ گیند کرنے کی ناکام کوششیں جاری رکھیں اور ان کی جم کر دھنائی ہوتی رہی۔ سب سے زیادہ تیز گیند بازوں نے مایوس کیا۔
محمد شامي نے 68 رنز دیے، امیش یادو نے 72 اور موہت شرمانے 75 رن دیے۔ امیش یادو تو چار وکٹیں لینے میں کامیاب رہے لیکن محمد شامي کے کھاتے میں ایک بھی وکٹ نہیں آئی۔
موہت شرما نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ سب سے اچھی گیند بازی اشون نے کی۔ انھوں نے دس اوورز میں صرف 42 رنز دیے۔
4: وراٹ کوہلی کی وکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریلیا نے پہلی وکٹ جلد ہی گنوا دی تھی۔ اس کے بعد نمبر تین پر بیٹنگ کرنے والے سٹيو سمتھ نے بہترین اننگز کھیلی۔ لیکن جب بھارت کا موقع آیا تو تیسری وکٹ پر اس کے بالکل برعکس ہوا۔
وراٹ کوہلی سے بھارت نے ضرورت سے زیادہ امیدیں لگا رکھی تھیں۔ لیکن کوہلی نے ان امیدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے اور وہ صرف ایک ہی رن بنا پائے۔
کوہلی کی وکٹ نے ہندوستانی کیمپ کو مایوس کر دیا اور اس کے بعد بھارتی مڈل آرڈر کبھی بھی قابل اعتماد نہیں نظر آیا۔ ایک ایک کر کے وکٹیں گرتی رہیں اور آخر کار بھارتی ٹیم مقررہ پورے 50 اوور بھی نہیں کھیل پائی۔
5: آسٹریلیا کے فاسٹ بولر

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریلیا کے تیز گیند باز ابتدائی طور پر تو تھوڑا پریشان ضرور نظر آئے لیکن انھیں پتہ تھا کہ ان کے پاس اچھے رنز ہیں۔
ایک بار وکٹیں گرنی شروع ہوئیں تو بس انھوں نے بھارتی بلے بازی کی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر رکھ دی۔ مچل سٹارک نے خاص طور پر بہترین گیند بازی کی اور 28 رنز کے عوض دو وکٹیں لیں۔ جب بھی بھارتی بلے باز تھوڑا جمنے کی کوشش کرتے تو سٹارک، جانسن اور فاكنر میں سے کوئی نہ کوئی آ کر ایک وکٹ اکھاڑ دیتا تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ سڈنی کی یہ وکٹ عام آسٹریلین وکٹوں کی طرح نہیں تھی جو عام طور پر تیز گیند بازوں کو مدد فراہم کرتی ہیں۔



