پاکستان کی ورلڈ کپ میں دو میچ ہارنے کے بعد پہلی کامیابی

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریلوی شہر برسبین میں کرکٹ کے 11 ویں عالمی کپ کے پول بی کے میچ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد زمبابوے کو 20 رنز سے شکست دے دی ہے۔
زمبابوے کی پوری ٹیم 236 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 215 رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88568" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ زمبابوے: تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/03/150301_cwc_pak_zim_pics_gallery_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
زمبابوے کی جانب سے برینڈن ٹیلر نے چھ چوکوں کی مدد سے 50 جبکہ چنگمبورہ نے چار چوکوں کی مدد سے 35 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض اور محمد عرفان نے چار چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کو پہلی کامیابی محمد عرفان نے پانچویں اوور میں اس وقت دلائی جب چبابا ان کی اٹھتی ہوئی گیند سے بچنے میں ناکام رہے اور صہیب کو کیچ دے بیٹھے۔
عرفان نے ہی دوسرے اوپنر سکندر رضا کو آؤٹ کیا، وہ 8 رنز بنا سکے اور حارث سہیل کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
برینڈن ٹیلر اور ہملٹن مساکادزا کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 52 رنز کی شراکت ہوئی جسے محمد عرفان نے ہی مساکادزار کو مصباح کے ہاتھوں کیچ کروا کے توڑا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ولیمز نے برینڈن ٹیلر کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ کے لیے نہ صرف 54 رنز کی شراکت بنائی بلکہ اپنی ٹیم پر پاکستانی دباؤ کو کم بھی کیا۔
تاہم جیسے ہی ٹیلر نے نصف سنچری مکمل کی وہ وہاب ریاض کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوگئے۔ شان ولیمز کو راحت علی نے آؤٹ کیا، وہ 33 رنز بنا سکے۔
یہ راحت علی کی ایک روزہ کرکٹ میں پہلی وکٹ تھی۔
پاکستانی وکٹ کیپر عمر اکمل کی جانب سے ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا اور انھوں نے شاہد آفریدی کی بولنگ پر شان ولیمز کے دو کیچ چھوڑے ۔ وہ اب تک اس ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہر میچ میں کم از کم ایک کیچ گرا چکے ہیں۔
بڑا ہدف دینے کا خواب پورا نہ ہوا
اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستانی بیٹنگ اس میچ میں ایک بار پھر ناکام رہی اور زمبابوے جیسی نسبتاً کمزور ٹیم کے سامنے شدید مشکلات کا شکار نظر آئی۔
مصباح الحق کے سوا کسی پاکستانی بلے باز نے بھی وکٹ پر ٹھہر کر ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی کوشش نہیں کی اور آخر میں وہاب ریاض کی جارحانہ اننگز کی بدولت ہی پاکستان سات وکٹوں پر 235 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکا۔
وہاب نے 46 گیندوں پر 54 رنز کی انتہائی اہم اننگز کھیلی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کپتان مصباح الحق نے سست روی سے بلے بازی کی اور 46ویں اوور 121 گیندوں پر 73 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں ان کی 40 ویں نصف سنچری تھی۔
اس میچ میں لیکن پاکستانی اوپنرز ایک بار پھر ٹیم کو اچھا آغاز نہ دے سکے۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف صفر پر آؤٹ ہونے والے ناصر جمشید اور احمد شہزاد اس میچ میں بھی ناکام رہے اور چتارا کے پہلے دو اوورز میں پویلین لوٹ گئے۔
دوہرے نقصان کے بعد مصباح الحق اور حارث سہیل نے انتہائی محتاط انداز اپنایا اور 15 اوورز میں 52 رنز کی شراکت قائم کی۔
پاکستان نے اپنے ابتدائی دس اوورز میں صرف 14 رنز بنائے جو سنہ 2001 کے بعد کسی میچ میں ابتدائی دس اوورز میں پاکستان کا دوسرا کم سے کم سکور ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کو تیسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب زمبابوے کے پاکستانی نژاد سپنر سکندر رضا نے اپنے پہلے اوور کی پہلی گیند پر حارث کو کیچ کروا دیا۔ انھوں نے 27 رنز بنانے کے لیے 44 گیندیں استعمال کیں۔
حارث کے جانے کے بعد عمر اکمل کریز پر آئے اور مصباح کے ساتھ مل کر 69 رنز کی شراکت قائم کی۔
تاہم وہ ایک بار پھر وکٹ پر رک کر بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور شان ولیمز نے پہلے انھیں اور پھر دو گیندوں بعد شاہد آفریدی کو بولڈ کر کے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔
صہیب مقصود نے بھی آغاز تو اچھا کیا لیکن پھر وہی ہوا جو اب تک اس ورلڈ کپ میں ہوتا آیا ہے۔ وہ 17 گیندوں پر 21 رنز بنانے کے بعد موپاریوا کو ان کی گیند پر ہی کیچ دے بیٹھے۔
زمبابوے کی جانب سے چتارا تین اور شان ولیمز دو وکٹوں کے ساتھ نمایاں بولر رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور آؤٹ آف فارم بلے باز یونس خان کی جگہ صرف ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کا تجربہ رکھنے والے فاسٹ بولر راحت علی کو ٹیم میں جگہ ملی ہے۔
پاکستانی ٹیم دو میچوں میں شکست کے بعد تاحال اس ورلڈ کپ میں فتح کی متلاشی ہے۔
بھارت نے پاکستان کو پہلے میچ میں 76 رنز اور ویسٹ انڈیز نے 150 رنز سے ہرایا تھا۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات پول بی میں دو ایسی ٹیمیں ہیں جن کا ابھی تک کوئی پوائنٹ نہیں ہے۔



