ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 150 رنز سے ہرا دیا

عمر اکمل نے صہیب مقصود کے ساتھ مل کر اچھی شراکت قائم کی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعمر اکمل نے صہیب مقصود کے ساتھ مل کر اچھی شراکت قائم کی ہے

کرکٹ کے عالمی کپ میں گروپ بی کے اہم میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 150 رنز کے بڑے فرق سے شکست دے دی ہے۔

یہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی لگاتار دوسری اور ورلڈ کپ مقابلوں میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی شکست ہے اور اب اس کے لیے کوارٹر فائنل مرحلے تک رسائی کا عمل مشکل ہوگیا ہے۔

<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ کے لیے کلک کریں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88555" platform="highweb"/></link>

کرائسٹ چرچ میں سنیچر کو کھیلے جانے والے میچ میں ناقص بولنگ اور فیلڈنگ کے بعد پاکستانی بلے باز بھی ناکام رہے اور 311 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم 39 اوور میں 160 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کے بدترین آغاز کے بعد پاکستان کی جانب سے صہیب مقصود اور عمر اکمل نے تو نصف سنچریاں بنائیں لیکن باقی بلے باز ٹیم کو سہارا دینے میں ناکام رہے۔

ان کے جانے کے بعد جلد ہی وہاب ریاض اور شاہد آفریدی بھی پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کے ابتدائی چار کھلاڑی صرف ایک رن کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہوئے جو کہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کا بدترین آغاز ہے۔

اس سے پہلے یہ ریکارڈ کینیڈا کے نام تھا جس نے 16 مئی 2006 کو زمبابوے کے خلاف چار رنز پر چار وکٹ گنوائے تھے۔

پاکستانی بلے بازوں کے پاس جیروم ٹیلر کی سوئنگ بولنگ کا کوئی جواب نہ تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستانی بلے بازوں کے پاس جیروم ٹیلر کی سوئنگ بولنگ کا کوئی جواب نہ تھا

پاکستان کی دو وکٹیں پہلے ہی اوور میں گریں جب ناصر جمشید اور یونس خان بغیر کوئی رن بنائے جیروم ٹیلر کی گیندوں پر کیچ دے بیٹھے۔

حارث سہیل بھی ٹیلر کے اگلے اوور میں سکورر کو کوئی زحمت دیے بغیر پویلین چلے گئے جبکہ احمد شہزاد نے صرف ایک رن بنایا اور جیسن ہولڈر کی پہلی وکٹ بنے۔

مصباح الحق اور صہیب مقصود نے سکور 25 تک پہنچایا تو مصباح الحق آندرے رسل کی گیند پر سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔

اس کے بعد عمر اکمل نے صہیب مقصود کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ کے لیے 80 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔

اس دوران 12 ویں اوور میں صہیب مقصود اس وقت بال بال بچے جب ہولڈر کی گیند پر سیمی ان کا کیچ نہ پکڑ سکے جبکہ 18 ویں اوور میں گیل نے اکمل کا کیچ چھوڑا۔

صہیب نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور سیمی کی گیند پر سلیمان بین کو کیچ دے دیا۔

عمر اکمل نے 59 رنز کی اننگز کھیلی لیکن بیٹنگ پاور پلے میں لیگ سائیڈ پر اس اکلوتے فیلڈر کو کیچ دے بیٹھے جسے ویسٹ انڈین کپتان نے باؤنڈری پر کھڑا کیا تھا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیروم ٹیلر اور آندرے رسل تین، تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔

ویسٹ انڈیز کی اننگز

اس سے قبل آخری اوور میں آندرے رسل کے ہی جارحانہ 42 رنز کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم 310 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔

اننگز کے آخری پانچ اوورز میں ویسٹ انڈیز نے 79 رنز بنائے۔

پاکستان کے تیز بولر خاص طور پر سہیل خان آخری اوورز میں بہت مہنگے ثابت ہوئے اور انھیں 48 ویں اوور میں 20 رنز پڑے جبکہ مجموعی طور پر انھوں نے دس اوور میں 73 رنز دیے۔

آندرے رسل نے صرف 13 گیندیں کھیلیں اور چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 42 رنز بنا ڈالے

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنآندرے رسل نے صرف 13 گیندیں کھیلیں اور چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 42 رنز بنا ڈالے

پاکستان کی فیلڈنگ اس میچ میں بہت مایوس کن رہی اور چھ کیچ گرنے کے علاوہ رن آؤٹ کے کم از کم دو یقینی مواقع ضائع ہوئے۔

اس میچ میں مصباح الحق نے ٹاس جیت کر ویسٹ انڈیز کو کھیلنے کی دعوت دی تھی۔

ابتدا میں تو پاکستان کے بولر نپی تلی بالنگ کرتے رہے اور ویسٹ انڈیز کے ابتدائی بلے باز کھل کر نہ کھیل سکے۔

گیل اور سمتھ کے جلدی آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر کے بلے بازوں نے اننگز کو استحکام بخشا۔

دنیش رام دین اور لینڈل سمنز نے نصف سنچریاں سکور کیں جبکہ براوو 49 رنز بنانے کے بعد زخمی ہو کر میدان چھوڑ گئے۔

پاکستانی فیلڈرز نے اس میچ میں چھ کیچ گرانے کے علاوہ رن آؤٹ کے کم از کم دو یقینی مواقع ضائع کیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فیلڈرز نے اس میچ میں چھ کیچ گرانے کے علاوہ رن آؤٹ کے کم از کم دو یقینی مواقع ضائع کیے۔

آخری اوورز میں آندرے رسل نے صرف 13 گیندوں میں چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 42 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو ایک بڑے سکور تک پہنچنے میں مدد دی۔

پاکستان کی جانب سے حارث سہیل دو وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ محمد عرفان، سہیل خان اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ لی۔

یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے بہت اہم تھا کیونکہ دونوں ٹیمیں اپنا پہلا میچ ہار چکی تھیں۔

پاکستان کو اپنے روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم آئرلینڈ کی نسبتاً ناتجربہ کار ٹیسٹ میچ کھیلنے کا درج نہ رکھنے والی ٹیم سے ہار گئی تھی۔