جب تک ذمہ داری نہیں لیں گے جیتنا ممکن نہیں: مصباح

مصباح الحق زمبابوے کے خلاف ٹیم سے بہتر کار کردگی کی امید رکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق زمبابوے کے خلاف ٹیم سے بہتر کار کردگی کی امید رکھتے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق دو میچوں کی شکست کا دباؤ اپنے اوپر سے ہٹاکر زمبابوے کے خلاف میچ جیتنا چاہتے ہیں تاکہ ٹیم کوارٹر فائنل کے دھارے میں شامل ہو سکے۔

مصباح الحق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ناکامیوں کے بعد پاکستانی ٹیم زبردست دباؤ میں رہی ہے۔

تاہم یہ دیکھ کر کہ اس ورلڈ کپ میں دوسری ٹیموں کے نتائج بھی ایک جیسے نہیں ہیں پاکستانی ٹیم کو تقویت ملی ہے کہ وہ اپنے اگلے میچز میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔

مصباح الحق نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پہلے دو میچوں میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی انتہائی اوسط درجے کی رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب آپ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں لگاتار دو میچز ہارجائیں تو دباؤ کا ہونا فطری امر ہے لیکن اب ٹیم کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ عمدہ کارکردگی کے ذریعے اعتماد بحال کرے۔

مصباح الحق کہتے ہیں کہ ایک متوازن کامبینیشن تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو حریف ٹیم پر پریشر ڈال سکے۔

انھوں نے کہا کہ جو لوگ سنہ 1992 کی ٹیم کی بار بار مثال دیتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس ٹیم میں کتنے ریگولر بولرز تھے۔

مصباح الحق نے کہا کہ آپ جتنے بھی بیٹسمین اور بولرز کھلا لیں جب تک وہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے جیت ممکن نہیں ہے۔

مصباح الحق پر بھارت اور ویسٹ انڈیز دونوں ٹیموں کے خلاف پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کا بوجھ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق پر بھارت اور ویسٹ انڈیز دونوں ٹیموں کے خلاف پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کا بوجھ ہے

بیٹسمینوں کی دونوں میچوں میں مایوس کن کارکردگی کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے بیٹسمینوں کو بھی ایک اچھے میچ کے بعد اگلے میچ میں تگ ودو کا سامنا رہا ہے۔

’سکور بورڈ پر تین سو رنز کا پریشر رہتا ہے اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ دونوں میچوں میں اس کے خلاف تین سو رنز بن گئے اور ناتجربہ کار بیٹنگ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔‘

پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ آسٹریلوی کنڈیشنز میں دن کی روشنی میں بیٹنگ کرنا مناسب ہے کیونکہ رات کو بولنگ کو مدد ملتی ہے۔

مصباح الحق سے جب ملک میں سابق کھلاڑیوں اور شائقین کی جانب سے سامنے آنے والے شدید ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ کس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی شائقین کی ایک بڑی تعداد ٹیم پر بھروسہ رکھے ہوئے ہے کہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔