بیٹنگ کا مسئلہ برقرار، بولرز نے جتوادیا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، برسبین
ورلڈ کپ میں پاکستان کی زمبابوے کے خلاف جیت سے کپتان مصباح الحق کے چہرے پر مسکراہٹ واپس آگئی ہے لیکن وہ یبیٹنگ لائن کی ناکامی سے پریشان بھی ہیں۔
’ہمارے بیٹسمینوں کے لیے ان کنڈیشنز میں کھیلنا آسان نہیں ہے۔ جب ایک بار آپ کا اعتماد متاثر ہو جائے تو اسے بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔بدقسمتی سے ہماری ٹاپ آرڈر بیٹنگ زبردست ذہنی دباؤ میں ہے اور یہ صورتحال میرے لیے بھی مشکل ہوجاتی ہے۔‘
مصباح الحق یہ مانتے ہیں کہ ورلڈ کپ کے لیے آنے کے بعد ٹیم کو پریکٹس کا کافی وقت ملا ہے اور میچز بھی مل چکے ہیں لیکن بیٹنگ کا مسئلہ برقرار ہے اور جب ایسی صورتحال ہو تو پھر بقا اسی میں ہے کہ آپ کی بولنگ جارحانہ ہو اور فیلڈنگ اچھی ہو۔
مصباح الحق زمبابوے کے خلاف جیت کا کریڈٹ بولرز کو قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہاب ریاض کی نصف سنچری کو بھی انتہائی اہمیت کی حامل سمجھتے ہیں۔
’مشکل صورتحال میں وہاب ریاض کی نصف سنچری نے بڑا فرق پیدا کیا۔ان کی اننگز کے بغیر زمبابوے پر دباؤ قائم نہیں ہو سکتا تھا۔ایسے وقت میں جب رنز نہیں بن رہے تھے ان کی اننگز نے کلیدی کردار ادا کیا جس کے بعد بولنگ میں محمد عرفان اور وہاب ریاض نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ شاہد آفریدی نے 47واں اوور میڈن کرا کر زمبابوے پر دباؤ بڑھا دیا۔راحت علی نے بھی اچھی بولنگ کی۔‘
مصباح الحق کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم اس موڑ پر کھڑی ہے کہ ہر میچ اب جیتنا ہوگا۔
’ہمارے لیے اب ہر میچ اہمیت کا حامل ہے۔ہمارے لیے یہ ناک آؤٹ مرحلے جیسی صورتحال ہے اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلے میچ میں ٹیم میدان میں اتاریں گے۔‘
مصباح الحق سے پوچھا گیا کہ بیٹنگ ضرورت سے زیادہ دفاعی خول میں بند رہی اور جوابی حملہ نہ کر سکی تو انہوں نے اس کی وجہ مشکل پچ بتائی۔
’وکٹ بیٹنگ کے لیے آسان نہ تھی۔ ٹائمنگ نہیں ہو پا رہی تھی۔مجھے بھی کھیلنے میں مشکل ہو رہی تھی لہذٰا یہ سوچ رہے تھے کہ 50 اوورز کھیلے جائیں اور اس وقت 260 سے 270 کا سکور ذہن میں تھا لیکن عمراکمل آفریدی اور صہیب مقصود کے جلد آؤٹ ہونے کے سبب یہ سکور ممکن نہ ہو سکا لیکن اپنی بولنگ دیکھتے ہوئے235 کو میں فائٹنگ سکور سمجھ رہا تھا۔‘



