بولرز نے لاج رکھ لی، پاکستان کی پہلی جیت

پاکستانی اننگز ایک بار پھر مصباح الحق کے گرد گھومتی رہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی اننگز ایک بار پھر مصباح الحق کے گرد گھومتی رہی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، برسبین

زمبابوے کے خلاف 20 رنز کی اس جیت نے پاکستانی ٹیم کے کوارٹرفائنل سے پہلے ہی عالمی کپ سے باہر ہونے کے خطرے کو وقتی طور پر پرے دھکیل دے دیا ہے۔

236 رنز کا دفاع کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کا وار انتہائی مہلک تھا۔

طویل قامت محمد عرفان نے کریئر بیسٹ بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں۔

وہاب ریاض نے نصف سنچری سکور کرنے کے بعد چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی دکھائی۔

عمراکمل نے وکٹ کے پیچھے پانچ کیچز لیے تاہم شاہد آفریدی کی بولنگ پر انہوں نے دو کیچز ڈراپ بھی کیے۔

شاہد آفریدی کو مسلسل تیسرے میچ میں وکٹ نہیں ملی لیکن انہوں نے اپنا آخری اوور میڈن کرا کر زمبابوے کا رن ریٹ بڑھا دیا۔

کپتان چگمبورا اور پنینگارا کی شراکت میچ کو زمبابوے کے حق میں کرتی نظر آئی لیکن عرفان اور وہاب ریاض کی موثر بولنگ فیصلہ کن گھڑی میں پاکستانی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

اس سے قبل پاکستانی اننگز ایک بار پھر مصباح الحق کے گرد گھومتی رہی جبکہ اننگز کے آخری حصے میں پاکستانی کپتان کو وہاب ریاض کا مضبوط سہارا میسر آگیا جس کی بدولت ٹیم ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق سکور بورڈ پر 235 کے ہندسے نظر آنے لگے۔

وہاب ریاض نے نصف سنچری سکور کرنے کے بعد چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی دکھائی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوہاب ریاض نے نصف سنچری سکور کرنے کے بعد چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی دکھائی

پاکستان نے دو میچوں کی مایوس کن کارکردگی پر یونس خان کو تو باہر بٹھا دیا لیکن ناصر جمشید پر نظر کرم برقرار رہی جن سے نہ رنز بنتے ہیں نہ وہ بولنگ کرتے ہیں اور ان سے کمزور ترین فیلڈر پوری ٹیم میں کوئی اور نہیں۔

آسٹریلوی باؤنسی وکٹوں پر لیگ سپنر کے کامیاب فارمولے کی نوید سناکر یہاں لائے گئے یاسر شاہ غلط میچ میں کھلانے کے بعد سے باہر ہیں۔اس میچ کے لیے ٹورنگ سلیکشن کمیٹی نے راحت علی کو ترجیح دی۔

میچ کی دوسری ہی گیند سے پاکستانی اننگز کی بنیادیں سرکنے لگ گئیں۔

ناصر جمشید سے اس تباہی کی ابتدا ہوئی اور پھر احمد شہزاد نے بھی ان کی تقلید کی جو 11 گیندیں کھیل کر کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔

چار رنز پر دو وکٹیں گرنے پر کریز پر آنے والے مصباح الحق نے خود کو اس مشکل صورتحال میں پایا جس کے اب وہ عادی ہو چکے ہیں۔

وہ اور حارث سہیل دفاعی خول میں ایسے بند ہوئے کہ زمبابوے کی بولنگ نے انہیں سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔

حارث سہیل نے غلط شاٹ کا انتخاب کر کے وکٹ گنوائی۔عمراکمل کا ٹیلنٹ پاکستانی ٹیم کو کب استحکام دے گا اس وقت کا سب کو انتظار ہے۔

33 رنز کرکے انہوں نے بھی اپنی وکٹ گنوائی۔ شاہد آفریدی اسی اوور میں آئے اور گئے ۔

ناصر جمشید سے اس تباہی کی ابتدا ہوئی اور پھر احمد شہزاد نے بھی ان کی تقلید کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنناصر جمشید سے اس تباہی کی ابتدا ہوئی اور پھر احمد شہزاد نے بھی ان کی تقلید کی

صہیب مقصود بھی مصباح الحق کا زیادہ ساتھ نہ دے سکے لیکن کپتان کو وہاب ریاض مل گئے۔

وہاب ریاض نے اپنے نصف سنچری ون ڈے میچ میں کریئر کی پہلی نصف سنچری سکور کر ڈالی۔

مصباح الحق نے 40ویں نصف سنچری سکور کی لیکن 47ویں اوور میں 73 پر آؤٹ ہوکر انہوں نے ایک بار پھر پہلی ون ڈے سنچری سکور کرنے کا موقع ضائع کردیا۔

پاکستانی اننگز مکمل طور پر زمبابوے کی منظم بولنگ کے قابو میں رہی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے 10 اوورز میں صرف 14 رنز بنے جو 2001 کے بعد سے ون ڈے انٹرنیشنل میں اس کا پہلے 10 اوورز میں دوسرا سب سے کم سکور ہے۔

15ویں اوور میں پاکستان کا سکور دو وکٹوں پر 33 رنز تھا جو اس ورلڈ کپ میں 15 اوورز کا سب سے کم سکور بھی ہے۔