’کرکٹ پر بات کریں کسی کی ذاتی زندگی کو رہنے دیں‘

وسیم اکرم کو اب بھی یقین ہے کہ اس ٹیم میں دم خم موجود ہے اور وہ ورلڈ کپ میں آگے جا سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوسیم اکرم کو اب بھی یقین ہے کہ اس ٹیم میں دم خم موجود ہے اور وہ ورلڈ کپ میں آگے جا سکتی ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، برسبین

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے ٹی وی چینلز پر ماہرانہ تبصرے کرنے والے سابق کرکٹرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کرکٹ پر بات کریں اور کسی کی ذاتی زندگی کو اچھالنا مناسب بات نہیں ہے۔

وسیم اکرم کا خیال ہے کہ معین خان کے معاملے کو حد سے زیادہ اچھالا گیا ہے۔

’میں جن کرکٹرز کے ساتھ بھی کمنٹری کر رہا ہوں وہ سب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے چیف سلیکٹر کو واپس کیوں بلا لیا گیا؟ لیکن اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں سارا ملبہ معین خان پر ڈال دیاگیا ہے۔ اس وقت سب سے بڑا معاملہ ورلڈ کپ ہے جس پر زیادہ بات کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر آپ ماہر بنے ہیں تو کسی کی ذاتی زندگی کے بجائے کرکٹ پر بات کرنی چاہیے اور کرکٹ سے متعلق جو مسائل ہیں ان کا حل پیش کرنا چاہیے‘۔

وسیم اکرم کے بقول تنقید کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

’بدتمیزی کی انتہا ہوتی ہے ۔ کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ مشہور ہونے کے لیے کسی کے ساتھ بھی بدتمیزی کر لیں گے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کوئی کلاس نہیں ہے۔‘

پاکستان کے سابق کپتان کا کہنا ہے کہ غیر ضروری تنقید کے سبب کھلاڑیوں پر بھی بہت زیادہ دباؤ ہے۔

’ماضی کے مقابلے میں ان دنوں تنقید کے انداز میں بھی تبدیلی آئی ہے اور اب یہ مسالہ ہوگیا ہے۔ ورلڈ کپ میں ٹیم دو میچ ہاری اور سوشل میڈیا پر اس کا مذاق اڑانا شروع ہوگیا، جس کے منہ میں جو آ رہا ہے وہ بولے جارہا ہے۔ مجھے احساس ہے کہ کھلاڑیوں پر نہ صرف میدان بلکہ میدان سے باہر کا بھی کتنا زیادہ دباؤ ہے‘؟

وسیم اکرم کو اب بھی یقین ہے کہ اس ٹیم میں دم خم موجود ہے اور وہ ورلڈ کپ میں آگے جا سکتی ہے۔