’محنت کسی پر کی گئی، کھیلا کوئی اور‘

’عرفان سہیل خان اور وہاب ریاض ورلڈ کپ میں کھیل رہے ہیں جب انھوں نے ورلڈ کپ کھیلنا تھا تو پچھلے چند ون ڈے سیریز جو پاکستانی ٹیم نے کھیلیں ان میں یہ بولرز کہاں تھے؟‘
،تصویر کا کیپشن’عرفان سہیل خان اور وہاب ریاض ورلڈ کپ میں کھیل رہے ہیں جب انھوں نے ورلڈ کپ کھیلنا تھا تو پچھلے چند ون ڈے سیریز جو پاکستانی ٹیم نے کھیلیں ان میں یہ بولرز کہاں تھے؟‘
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کسی تیاری کے بغیر ورلڈ کپ کھیلنے آئی ہے اور جب تک وہ دفاعی خول سے باہر نہیں نکلے گی اس کا جیتنا مشکل ہے۔

عاقب جاوید نے جو اس وقت متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیم کے کوچ ہیں برسبین کے وولن گابا اسٹیڈیم میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کی تیاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محنت کسی پر کی گئی، کھلا کسی اور کو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’عرفان سہیل خان اور وہاب ریاض ورلڈ کپ میں کھیل رہے ہیں جب انھوں نے ورلڈ کپ کھیلنا تھا تو پچھلے چند ون ڈے سیریز جو پاکستانی ٹیم نے کھیلیں ان میں یہ بولرز کہاں تھے؟‘

عاقب جاوید نے جو 1992 کا عالمی کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل تھے کہا کہ اگر دنیا کی کسی دوسری ٹیم میں سرفراز احمد ہوتے تو وہ انہیں ڈراپ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ’انہوں نے حالیہ میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے وکٹ کیپر بیٹسمین کا دیرینہ مسئلہ حل کردیا تھا لیکن ان کا اعتماد بری طرح متزلزل کردیا گیا ہے۔‘

عاقب جاوید نے کہا کہ اگر یونس خان سے رنز نہیں ہو رہے ہیں تو انھیں ٹیم سے ڈراپ کرنے میں کیا قباحت ہے۔ آسٹریلوی وکٹوں پر مڈل آرڈر بیٹسمین کبھی بھی اچھا اوپنر ثابت نہیں ہوسکتا۔

عاقب جاوید نے کہا کہ اس ورلڈ کپ میں لگ رہا ہے کہ کوئی ایک شخص ٹیم کی کارکردگی کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہے اور ایک دوسرے کے سر پر یہ ذمہ داری ڈالی جارہی ہے۔

’یہ تاثر مل رہا ہے کہ کبھی مصباح الحق اور کبھی وقاریونس کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو دفاعی سوچ بدلنی ہوگی۔ ’ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں درمیان کے اوورز میں نان ریگولر بولر کو بولنگ دے کر ویسٹ انڈیز کو سنبھلنے کا موقع فراہم کردیا گیا۔‘

عاقب جاوید نے کہا کہ سعید اجمل کی غیرموجودگی میں لیگ سپنر یاسر شاہ کی شکل میں پاکستان کے پاس بہترین آپشن موجود ہے۔

عاقب جاوید سے جب پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں انھیں پاکستانی ٹیم کی کوچنگ کی پیشکش ہوئی تو وہ قبول کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ وہ اپنی شرائط پر کام کرسکتے ہیں۔

’کوچنگ ایک پروفیشنل ذمہ داری ہے اس میں یہ نہیں ہوسکتا کہ آج آپ کمنٹری کررہے ہیں اور پھر اچانک کوچ بن جائیں۔ اور کوئی بھی پروفیشنل یہ نہیں چاہے گا کہ وہ ایسی جگہ جائے جہاں دو مہینے بعد ہی اسے نکالنے کی باتیں ہونے لگیں۔

دنیا بھر میں ایسا کہیں نہیں ہوتا آپ کوچ لائے اور ایک مہینے بعد ہی اس پر تنقید ہوتی ہے اور تیسرے مہینے سننے میں آتا ہے کہ اسے نکال دو۔‘