’پاکستانی ٹیم کی خامیاں نہیں خوبیاں جانتا ہوں‘

ایک سال قبل تک ڈیوواٹمور پاکستان کے کوچ تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک سال قبل تک ڈیوواٹمور پاکستان کے کوچ تھے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، برسبین

ڈیو واٹمور کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ عصرِ حاضر کے کوچز میں انھوں نے سب سے زیادہ ’دشت کی سیاحی‘ کی ہے۔

سری لنکا میں پیدا ہونے اور آسٹریلیا کی طرف سے ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے ڈیو واٹمور اس ورلڈ کپ میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے کوچ ہیں۔

اس سے قبل وہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے بھی کوچ رہے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے انگلش کاؤنٹی لنکاشائر اور آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی کوچنگ بھی کی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کرکٹ اسٹیبلشمنٹ سے ان کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے اور وقت سے پہلے ہی انہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا ۔

ڈیو واٹمور اس وقت برسبین میں ہیں جہاں اتوار کو زمبابوے اس ٹیم سے مقابلہ کرنے والی ہے جس کے وہ صرف ایک سال پہلے تک کوچ تھے اور ان سے زیادہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں کون جانتا ہوگا لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستانی ٹیم کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی۔

’یہ بات پالیسی کے خلاف ہے اور مناسب بھی معلوم نہیں ہوتی کہ میں حریف ٹیموں کے بارے میں کوئی تبصرہ کروں۔‘

واٹمور سے اگلا سوال پھر پاکستانی ٹیم کی خامیوں کے بارے میں تھا لیکن وہ دوبارہ بڑی ہوشیاری کا مظاہرہ کرکے اپنی بات کہہ گئے۔

’ میں خامیاں نہیں بلکہ پاکستانی ٹیم کی قوت اور خوبیوں کے بارے میں جانتا ہوں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ میں کہوں کہ گلاس آدھا بھرا ہوا نہیں ہے بلکہ آدھا خالی ہے۔‘

واٹمور پاکستان کے خلاف سخت میچ کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔

’ پاکستانی ٹیم دو میچز ہارنے کے بعد جیت کے لیے بے چین ہے اور یہ ایک اہم اور سخت میچ ہوگا۔ ہم پاکستان سے ایک میچ زیادہ کھیلے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ہماری کارکردگی بری نہیں رہی ہے لیکن کچھ شعبے ایسے ہیں جن میں ہمیں اپنی کارکردگی میں بہتری کی ضرورت ہے۔ ہمیں بیک وقت بولنگ اور بیٹنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘

واٹمور سے جب پوچھا گیا کہ پاکستانی کپتان مصباح الحق کے بارے میں کیا کہیں گے جو اس عالمی کپ کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل کو خیرباد کہہ رہے ہیں تو ان کا جواب مصباح کی تعریف سے بھرا پڑا تھا۔

پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ میں اب تک کسی میچ میں کامیابی حاصل نہیں کی
،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ میں اب تک کسی میچ میں کامیابی حاصل نہیں کی

’میں مصباح کی بڑی قدر کرتا ہوں۔ وہ کافی عرصے سے پاکستانی کرکٹ کی خدمت کررہے ہیں اور ان میں ٹیم کے لیے کچھ کرنے کی چاہ اور تڑپ ہے۔ میں جیسا سوچتا ہوں کچھ حلقے ویسا نہیں سوچتے۔ بدقسمتی سے مصباح کو جتنی کامیابیاں ملنی چاہئیں تھیں وہ نہ مل سکیں۔‘

واٹمور شاہد آفریدی کو بھی وسیع تجربے کا حامل کرکٹر سمجھتے ہیں جنھیں وہ ان کے کریئر کی ابتدا سے جانتے ہیں۔

’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں سری لنکا کا کوچ تھا تو آفریدی کا پہلا سامنا نیروبی میں ہوا تھا اور انہوں نے 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری بناڈالی تھی۔ آفریدی نے 400 کے لگ بھگ میچز کھیلے ہیں اور وہ انتہائی تجربہ کار کرکٹر ہیں۔‘

واٹمور کا کہنا ہے زمبابوے کو اگلے تینوں میچوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ جیت کی اسے بھی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ زمبابوے کی ٹیم اس عالمی کپ میں جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سے ہارچکی ہے جبکہ اس نے متحدہ عرب امارات کے خلاف میچ جیتا ہے۔