کیا بھارت دوبارہ کرکٹ ورلڈ کپ جیت سکتا ہے؟

بھارتی سکواڈ میں اس وقت صرف چار ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو گذشتہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبھارتی سکواڈ میں اس وقت صرف چار ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو گذشتہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے

کرکٹ کا عالمی کپ آئندہ ماہ سے شروع ہو رہا ہے اور اس موقعے پر کھیلوں پر لکھنے والے سریش مینن نے اس سوال کے جوابات دیے ہیں کہ کیا بھارت دوبارہ ورلڈ کپ جیت سکتا ہے۔

1983 سے ہر چار سال بعد یہ سوال بھارت میں امید اور غیر یقینی انداز میں پوچھا جاتا ہے لیکن جواب ہمیشہ سے ایک ہی ہوتا ہے کہ ’ہاں کیوں نہیں، مقابلے میں شامل نصف درجن ممالک میں سے کوئی بھی جیت سکتا ہے۔‘

1983 کے عالمی کپ میں بھارت کی جیت کے بعد کرکٹ میں دو طرح سے جمہوریت پسندی آئی۔ جس میں ایک پالیسی یہ آئی کہ ہر بار میزبان ملک مختلف ہو گا اور دوسرا ٹیموں کو عالمی کپ جیتنے کی خواہش کا اعتماد دینا۔

1983 کے عالمی کپ کے بعد منعقد ہونے والے تینوں ورلڈ کپ تین مختلف ممالک نے جیتے۔ ان میں بھارت اپنی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والے کم از کم دونوں عالمی کپ جیت سکتا تھا لیکن آسٹریلیا، پاکستان اور سری لنکا اس میں آڑے آ گئے۔

عالمی کپ کے فارمیٹ کے مطابق ٹیمیں دو گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر ٹیم کو اپنے گروپ میں شامل ہر ٹیم سے کھیلنا ہے اور اس میں سرفہرست چار ٹیموں نے کوارٹر فائنل کھیلنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت ایک یا دو برے نتائج کا متحمل ہو سکتا ہے، لیکن 2007 کی طرح نہیں جس میں انھیں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد وہ دباؤ کی وجہ سے ناک آؤٹ مرحلے تک جانے میں ناکام رہے۔

جب برصغیر میں پہلا عالمی کپ منعقد ہوا تو اس وقت پاکستان اور بھارت دو مختلف گروپوں میں شامل تھے اور امید کی جا رہی تھی کہ دونوں فائنل میں مدمقابل ہوں گے۔

بعد میں پاکستان اور بھارت چاہے عالمی کپ کے کسی بھی مرحلے میں مدمقابل ہوں، اس میچ کی ٹیلی ویژن پر ناظرین کی بڑی تعداد اور عوامی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے یہ اقدامات کیے ہیں کہ دونوں ممالک کو ایک گروپ میں ہونا چاہیے تاکہ اس بات کی ضمانت رہے کہ عالمی کپ کے دوران دونوں کم از کم ایک بار ایک دوسرے کے مدمقابل ضرور ہوں۔

بھارت کو بیٹنگ میں کوہلی سے بہت ساری امیدیں ہیں

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبھارت کو بیٹنگ میں کوہلی سے بہت ساری امیدیں ہیں

بھارت کے گروپ میں پاکستان، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، زمبابوے، آئرلینڈ، اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس میں کوارٹر فائنل تک پہنچے کا امکان یقینی ہے اور اس کے بعد دو اچھے میچ اور پھر فائنل میں جگہ۔

کاغذوں پر یہ بہت حوصلہ افزا اور آسان ہے اور ایک بحث جو نصف درجن نمایاں ٹیموں کے لیے ’سب اچھا ہے،‘ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کرکٹ میچ کاغذوں پر نہیں کھیلے جاتے اور اس میں بھارت کی مشکلات کب ابھر کر سامنے آئیں گی۔

آسٹریلیا کی باؤنسی اور نیوزی لینڈ کی سیمنگ وکٹوں پر ہو سکتا ہے کہ بھارت اتنا پراعتماد نہ ہو لیکن یہ ایک ایسی ٹیم ہے جو مختصر فارمیٹ کی کرکٹ کے برعکس طویل فارمیٹ کے کرکٹ میں کئی سالوں سے بیرون ملک اچھی کارکردگی نہ دکھانے کا تجربہ کر چکی ہے۔

بھارتی سکواڈ میں اس وقت صرف چار ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو گذشتہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی نوجوان اور ورلڈ کپ کے تجربے سے عاری ہیں۔

ٹیم میں صرف 33 سالہ دھونی اور 30 سالہ سٹورٹ بنی 30 سال سے اوپر کے ہیں، جبکہ ان کے پاس موجودہ فارمیٹ میں بہترین تین کھلاڑیوں میں سے ایک وراٹ کوہلی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ روہت شرما کے پاس ایک روزہ میچوں میں 264 رنز کا عالمی ریکارڈ ہے۔

دھونی کی قیادت میں عالمی کپ میں شرکت کرنے والی ٹیم میں زیادہ تر کھلاڑی اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشندھونی کی قیادت میں عالمی کپ میں شرکت کرنے والی ٹیم میں زیادہ تر کھلاڑی اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں

ایک روزہ کرکٹ میں سوریش رائنا عمدہ بلے باز ہیں۔ بیٹنگ لائن میں شامل دیگر بلے بازوں میں شیکھر دھون، شرما، کوہلی، دھونی، رائنا، اجنکیا رہانے یا امبتی رائڈو شامل ہیں اور یہ دنیا کی بہترین بیٹنگ لائنز میں سے ایک ہے۔

اگر بھارت کی بولنگ کی جانب دیکھا جائے تو اس کے بارے میں تحفظات سامنے آتے ہیں۔

ٹیم میں شامل فاسٹ بولر متاثر کن نہیں ہیں، تو اس صورت میں ایشون، دھونی، رائنا اور کوہلی ممکنہ طور پر متاثر کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

اب بھی ایشانت شرما، محمد شامی، بھنشور کمار ایک روزہ میچوں میں مختلف بولر ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں انھیں صرف دس اووروں ہی کرانے ہیں۔ اس میں وکٹوں حاصل کرنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی لیکن دوسرا بہت کچھ کرنے کی ضمانت ہو گی۔

ٹیسٹ میچ بولروں کے بل پر جیتے جاتے ہیں لیکن ایک روزہ میچ بلے باز جتواتے ہیں اور بیٹنگ میں بھارت اچھی کارکردگی دکھاتا ہے۔

جب رویندر جڈیجا انجری سے صحت یاب ہونے کی اب بھی کوشش کر رہے ہیں اور دیگر کھلاڑیوں میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کے بعد سے تھکن کے آثار نظر آ رہے ہیں اور اس میں فٹنس برقرار رکھنا بھارت کے لیے بڑی تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔

رائنا اس وقت بہترین فام میں ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنرائنا اس وقت بہترین فام میں ہیں

آسٹریلیا میں کھلیے جانے والی سہ فریقی ایک روزہ میچوں کی سیریز (آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت) سے چند سوالات کے جواب مل سکتے ہیں لیکن ہر میچ میں بولنگ میں کمزوری پر قابو پانے میں بیٹنگ کے شعبے میں کارکردگی دکھانی ہو گی۔

آسٹریلیا چار بار ورلڈ کپ جیت چکا ہے اور اب کپ کا میزبان ملک بھی ہے اور اسی وجہ سے ایک فیورٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ 1992 سے عالمی کرکٹ میں قدم رکھنے والا جنوبی افریقہ اس بار چوکرز یعنی آخری مرحلے میں ہمت ہارنے والے داغ کو دھو سکتا ہے اور ان کے پاس اس وقت اس کے لیے ٹیم بھی موجود ہے۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم سب سے زیادہ بار سیمی فائنلز میں جگہ بنا چکی ہے اور یہ سال ان کے لیے بہترین ہو سکتا ہے اور کا شمار ایک روزہ میچوں میں تسلسل قائم رکھنے والی ٹیموں میں ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی جیت سکتا ہے۔

اس کے علاوہ توقع ہے کہ پاکستان اور سری لنکا چھ سرفہرست ٹیموں میں جگہ بنا لیں گے۔