مصباح کا ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

مصباح الحق 78 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق 78 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ورلڈ کپ کے بعد ون ڈے کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔

40 سالہ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ہفتے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کو بتادیا تھا کہ وہ عالمی کپ کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ لینا چاہتے ہیں جو ان کے خیال میں مناسب وقت ہے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کامیابی حاصل کرے۔

مصباح الحق نے 153 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 37 نصف سنچریوں کی مدد سے 4669 رنز اسکور کیے جو کسی سنچری کے بغیر بنائے گئے رنز کا عالمی ریکارڈ بھی ہے۔

مصباح الحق نے سنہ 2011 میں ون ڈے ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی وہ 78 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں۔

ان کی قیادات میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے 41 ون ڈے میچز جیتے ہیں 34 ہارے ہیں دو ٹائی ہوئے ہیں جبکہ ایک میچ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

مصباح الحق نے جہاں اپنے ون ڈح کریئر کے خاتمے کا اعلان کیا ہے وہیں ان کا ٹیسٹ کریئر جاری رہے گا۔

مصباح الحق نے بحیثیت کپتان اپنے 32 ٹیسٹ میچوں میں 09ء63 کی اوسط سے 2650 رنز بھی بنائے ہیں جن میں چھ سنچریاں اور پانچ نصف سنچریاں شامل ہیں اور وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کامیاب ترین پاکستانی کپتان ہیں۔

مصباح الحق پر سست رفتاری سے بیٹنگ کا الزام عام سی بات رہی ہے۔ مصباح الحق پر دفاعی انداز اختیار کرنے والے کپتان کاالزام لگتا رہا ہے لیکن اگر اسی انداز نے انہیں کامیاب ترین کپتان بنایا ہے تو پھر یہ بات اس جارحانہ انداز سے کہیں بہتر ہے جسے اختیارکرکے آپ میچ ہارتے چلے جائیں ۔ یہ دلیل کسی اور کی نہیں خود مصباح الحق کی ہے۔

مصباح الحق نے ایک ایسے دور میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی سنبھالی تھی جب سپاٹ فکسنگ نے پاکستانی کرکٹ کے چہرے کو بری طرح مسخ کردیا تھا اور انھیں اس سیاہی کو مٹانے کے لیے کئی یادگار کامیابیاں حاصل کرنی پڑیں اور وہ پندرہ ٹیسٹ فتوحات کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان بھی ثابت ہوئے۔