ڈر لگ رہا تھا کہ یہ ورلڈ کپ میں آخری میچ نہ ہو: میسی

میسی کو سوئس کھلاڑیوں نے مسلسل مارک کیے رکھا لیکن فیصلہ کن گول میں ان کا کردار کلیدی رہا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمیسی کو سوئس کھلاڑیوں نے مسلسل مارک کیے رکھا لیکن فیصلہ کن گول میں ان کا کردار کلیدی رہا

ارجنٹائن کے سٹار فٹبالر لیونیل میسی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ کے دوران انھیں ڈر لگنے لگا تھا کہ یہ ان کے ملک کا اس ورلڈ کپ میں آخری میچ ثابت ہو سکتا ہے۔

ارجنٹائن نے منگل کو کھیلے جانے والے میچ میں اضافی وقت میں میسی کے شاندار پاس پر ڈی ماریا کے گول کی بدولت فتح حاصل کی تھی۔

27 سالہ میسی کا کہنا ہے کہ ’جب میچ اختتامی لمحات کی جانب بڑھ رہا تھا تو میں بہت پریشان تھا کیونکہ ہم گول نہیں کر پا رہے تھے اور ایک بھی غلطی ہمیں ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وقت گزرتا جا رہا تھا اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ میچ کا فیصلہ پنلٹیز پر ہو۔‘

پری کوارٹر فائنل میچ میں اگرچہ زیادہ دیرگیند پر کنٹرول دو مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے والے ارجنٹائن کی ٹیم کا ہی رہا لیکن وہ مقررہ وقت میں گول کرنے میں ناکام رہی تھی۔

118 ویں منٹ میں ڈی ماریا کے گول کی بدولت ارجنٹائن کو برتری ملی اور میچ کے آخری لمحات میں وہ اس وقت خوش قسمت ثابت ہوئی جب سوئس کھلاڑی بلیریم جمائیلی کا ہیڈر گول پوسٹ سے ٹکرایا اور پھر وہ ری باؤنڈ پر بھی گول نہ کر سکے۔

میسی کے خدشات کے باوجود پورے میچ کے دوران ناقص کھیل کی وجہ سے مبصرین اور ماہرین کی تنقید کا نشانہ بننے اور آخر میں ارجنٹائن کے لیے فتح گر ثابت ہونے والے ڈی ماریا کے خیال میں ان کی ٹیم اس فتح کی حقدار تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف میرا کمال نہیں۔ تمام کھلاڑی اور تکنیکی عملہ ہیرو ہیں۔ ہم نے پوری جان لگا دی تھی۔‘

ادھر ارجنٹائن کے کوچ الیہاندرو سبیلا کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ میچ تھا جسے ہم 90 منٹ میں جیتنے کا حق رکھتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پہلے ہاف میں تو انھیں گول کرنے کے دو واضح مواقع ملے لیکن دوسرے ہاف میں ہم برتر تھے۔ ہم نے پانچ یا چھ مرتبہ گول پر نشانہ لگایا اور پھر اضافی وقت میں ہم نے مزید کوششیں کیں۔‘

خیال رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ میں ارجنٹائن نے 120 منٹ کے کھیل میں سوئس گول پر 29 حملے کیے جبکہ سوئس کھلاڑی 50 ویں منٹ کے بعد سے آخری لمحات کے دوران کوئی اچھی موو نہ بنا سکے۔