ایشین گیمز ہاکی، پاکستان کی شرکت یقینی نہیں

اولمپک یوتھ گیمز میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے تاحال انٹری نہیں بھیجی ہے: عارف حسن
،تصویر کا کیپشناولمپک یوتھ گیمز میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے تاحال انٹری نہیں بھیجی ہے: عارف حسن
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے بھیجی جانے والی نامکمل انٹری کی وجہ سے ہاکی ٹیم کی اس سال ہونے والے ایشین گیمز میں شرکت یقینی نہیں ہے۔

ایشین گیمز 19 ستمبر سے چار اکتوبر تک جنوبی کوریا کے شہر انچیون میں منعقد ہو رہے ہیں جن میں پاکستان کو ہاکی کے اعزاز کا دفاع کرنا ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم کردہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عارف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 30 اپریل کی ڈیڈلائن سے قبل پی او اے کو 25 نام بھیجے تھے جو پاسپورٹ تصاویر اور دیگر کاغذات مکمل نہ ہونے کے سبب واپس کر دیے گئے تھے۔

سید عارف حسن کے مطابق اس کے بعد فیڈریشن نے 15 کھلاڑیوں کے نام اور پاسپورٹ بھیج دیے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ان 15 کھلاڑیوں کا ایکریڈیشن کرا دیا ہے لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بین الاقوامی مقابلوں میں 16 کھلاڑی اور چھ آفیشلز کو شرکت کرنی ہوتی ہے لہذٰا پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اس کے بعد کوئی جواب نہیں دیا ہے اور یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ 15 کھلاڑی فرسٹ الیون میں شامل ہیں یا نہیں؟

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کا کہنا ہے کہ اولمپک یوتھ گیمز میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے تاحال انٹری نہیں بھیجی ہے جس پر ایف آئی ایچ خفا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ڈیڈلائن گزرجانے کے بعد ملک کے وسیع تر مفاد میں ایشین گیمز اور اولمپک یوتھ گیمز کے منتظمین سے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے لیکن اگر دونوں نے مثبت جواب نہ دیا تو پاکستانی ہاکی ٹیم ایشین گیمز اور اولمپک یوتھ گیمز میں شرکت سے محروم ہوجائے گی۔

عارف حسن نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس تاخیر کی وجہ ٹرائلز اور حکومتی اجازت کو قرار دے رہی ہے حالانکہ قومی کھیل اور دفاعی چیمپئن ہونے کے ناتے فیڈریشن کو اپنا تمام ہوم ورک بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

عارف حسن نے کہا کہ ایشین گیمز میں ہاکی ٹیم کی انٹری ان کی سربراہی میں قائم پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے توسط سے بھیج کر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پی او اے کی قانونی اور آئینی حیثیت تسلیم کر لی ہے۔

تاہم انھوں نے بین الصوبائی رابطے کے وفاقی وزیر کی جانب سے اکرم ساہی کی پی او اے کو تسلیم کیے جانے کے بیان پر کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت دو کشتیوں میں سوار ہے وہ ایک جانب بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت یقینی بنانے کے لیے آئی او سی کی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا سہارا تلاش کر رہی ہے تو دوسری جانب وہ اپنی پی اواے کے حق میں بیان دے رہی ہے جو غلط ہے کیونکہ آئی او سی نے اس بار پاکستان کو آخری وارننگ دے رکھی ہے اور اگر حکومت نے اولمپک چارٹر پر عمل نہ کیا تو پاکستان کی اولمپک رکنیت معطل کردی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ آئی او سی نے 21 مئی کو حکومتی نمائندے کو بلایا تھا لیکن حکومت نے اس ضمن میں اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔

عارف حسن نے واضح کر دیا کہ پی ایچ ایف کے سیکریٹری رانا مجاہد پر 10سال کی پابندی برقرار ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے دستخط سے آنے والی ہاکی کھلاڑیوں کی انٹریز کو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے مسترد کرتے ہوئے واپس کر دیا تھا۔