پاکستان ہاکی: اور کتنی جگ ہنسائی ہوگی؟

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سابق ہاکی اولمپیئنز نے ہاکی فیڈریشن کی ہٹ دھرمی کو دو ہزار چودہ میں ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں سے پاکستانی ہاکی ٹیم کے اخراج کی وجہ قرار دیا ہے ۔
واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن بار بار یاد دہانی کے باوجود کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین کو شرکت کی تصدیق کرنے میں ناکام رہی۔
یہ تصدیق اسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی منظور شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے توسط سے کرنی تھی لیکن چونکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اس ایسوسی ایشن کو تسلیم نہیں کرتی لہٰذا وہ بھیجے گئے دعوت نامے کو خاطر میں نہیں لائی۔
سابق کپتان اصلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی عدم دلچسپی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سبب بنی ہے، نہ جانے آنے والے دنوں میں اور کتنی جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اصلاح الدین نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو یہ بات اچھی طرح یہ معلوم ہے کہ بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق قومی اولمپک کمیٹی کے توسط سے کی جاتی ہے لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کرتا دھرتا اس بات کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی ہاکی ٹیم ورلڈ کپ کے بعد اب کامن ویلتھ گیمز میں بھی شرکت سے محروم ہوگئی ہے۔
اصلاح الدین نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستانی ہاکی کے معاملات پر فوری توجہ دے اور اس کھیل کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
سابق اولمپیئن شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ قوم ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کے صدمے سے ابھی نہیں نکلی ہے، اور کامن ویلتھ گیمز میں شرکت سے محرومی پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ایک اور ’کارنامہ‘ ہے۔
شہناز شیخ نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کرتادھرتاؤں سے ہاکی سنبھلتی نہیں اور وہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملات میں کود پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ظاہر ہے خوش ہوگی کہ وہ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت نہ کر کے ایک اور ہزیمت سے بچ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم اولمپکس میں شرکت سے بھی محروم ہوجائے، حکومت کو ہاکی کے معاملات میں تبدیلی لانی ہوگی۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے منتظمین سے ایک سے زائد بار گیمز میں شرکت کی ڈیڈلائن آگے بڑھانے کے لیے درخواست کی لیکن ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے بارے میں اپنی رضامندی سے آگاہ نہیں کیا اور اس کی عدم دلچسپی کا نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔



