پاکستانی ہاکی کا سیاہ ترین دن

پانچ سال میں حکومت سے 100 کروڑ روپے لے کر بھی موجودہ فیڈریشن نے رسوائی کے سوا کچھ نہ دیا:خالد محمود
،تصویر کا کیپشنپانچ سال میں حکومت سے 100 کروڑ روپے لے کر بھی موجودہ فیڈریشن نے رسوائی کے سوا کچھ نہ دیا:خالد محمود
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سابق ہاکی اولمپئنز نے تاریخ میں پہلی بار عالمی کپ سے باہر ہونے کو پاکستانی ہاکی کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ عہدیداروں کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

چار بار ہاکی کا عالمی کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم پہلی بار اس کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی۔

<link type="page"><caption> ہاکی کا کٹھ پیلی تماشہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2012/11/121116_hockey_change_pakistan_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاکستان ہاکی کے ستارے جو عالمی اُفق پر چمکے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2012/01/120116_hockey_mc_high_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے لیے آئندہ سال ہالینڈ میں ہونے والے عالمی کپ تک رسائی کا آخری موقع ایشیا کپ جیتنے کی صورت میں تھا لیکن پاکستانی ٹیم ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں جنوبی کوریا سے ہارگئی۔

سنہ 1971 میں ہاکی کا پہلا عالمی کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان خالد محمود نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہاکہ انھیں پاکستانی ٹیم کی شکست پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے کیونکہ یہ نوشتہ دیوار پہلے ہی پڑھ لیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور اور ٹیم مینجمنٹ سیاست دانوں کے ہاتھ میں ہے اور جب ایسا ہوگا تو نتائج بھی بدترین ہی آئیں گے۔

خالد محمود نے کہا کہ پانچ سال میں حکومت سے 100 کروڑ روپے لے کر بھی موجودہ فیڈریشن نے ملک کو رسوائی کے سوا کچھ نہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ سپورٹس حکومت کی ترجیح نہیں ہے اسی لیے فیڈریشن سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں۔

سنہ 1978 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان اصلاح الدین نے کہا کہ یہ پاکستانی ہاکی کا سیاہ ترین دن ہے اور آج پاکستانی ہاکی جس صورت حال سے دوچار ہوئی ہے اس کے ذمہ دار پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ کرتا دھرتا ہیں جن سے چھٹکارا نہ پایا گیا تو دنیا میں پاکستانی ہاکی کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہے گا۔

اصلاح الدین نے کہا کہ وہ کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ ملک جس نے دنیا میں ہاکی کا عالمی کپ متعارف کرایا وہ کبھی اس ٹورنامنٹ سے باہر بھی ہو سکتا ہے۔

اصلاح الدین نے کہا ’جیت ہار کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن موجودہ فیڈریشن نے پانچ سال کے دوران کسی بھی مرحلے پر ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔اس کے دور میں پاکستانی ہاکی مسلسل ہزیمت سے دوچار ہوتی رہی ہے۔ ہاکی کے عالمی کپ میں بارہویں پوزیشن پر بھی اس فیڈریشن کو نہیں ہٹایا گیا اور اگر اب بھی حکومت نے توجہ نہیں دی تو یہ قومی کھیل کے ساتھ زیادتی ہوگی‘۔

سنہ 1994 کے عالمی کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان شہباز احمد کا کہنا ہے کہ موجودہ فیڈریشن نے قومی کھیل کو بدترین مقام پر لاکھڑا کردیا ہے۔

’اس فیڈریشن نے پانچ سال کے دوران قومی کھیل کے ساتھ جس طرح مذاق کیا ہے اور ملک کے وقار کو دھچکہ پہنچایا ہے اس کے باوجود کوئی اس سے بازپرس کرنے والا نہیں ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ حکومت بھی اس معاملے میں دلچسپی نہیں لیتی رہی ہے بلکہ ماضی کی حکومت نے ہاکی فیڈریشن کے لئے خزانے کے منہ کھول دیئے لیکن بے حساب پیسے کا نہ کوئی حساب دیا گیا اور نہ ہی اس کا صحیح استعمال کیا گیا‘۔