’یہ ملاپ زیادہ دیر نہیں چلے گا‘

اس وقت ٹیم کو نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کی اشد ضرورت ہے لیکن ایسے کھلاڑی ٹیم میں نہیں آ رہے ہیں: سمیع اللہ

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس وقت ٹیم کو نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کی اشد ضرورت ہے لیکن ایسے کھلاڑی ٹیم میں نہیں آ رہے ہیں: سمیع اللہ
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان سمیع اللہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے چیف سلیکٹر اصلاح الدین کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری کی جانب سے کام میں مداخلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

انھوں نے نئے کوچ شہناز شیخ کے اس بیان پر بھی حیرانی ظاہر کی ہے جس میں انھوں نے عہدہ سنبھالتے ہی ایشین گیمز کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اور گزشتہ کئی برسوں سے اس کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرنے والے سابق اولمپینز کے درمیان مفاہمت ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں سابق اولمپینز کی اکثریت کو فیڈریشن اور ٹیم منیجمنٹ میں اہم عہدے بھی مل گئے ہیں۔ تاہم ’فلائنگ ہارس‘ کے نام سے شہرت پانے والے سمیع اللہ فیڈریشن کے ساتھ ملنے سے انکار کر چکے ہیں۔

سمیع اللہ نے بی بی سی کو دیےگئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی ہاکی کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پی ایچ ایف کے صدر اور سیکریٹری کے الیکشن کرائے گئے اور وہ بھی صاف شفاف نہیں تھے اور نہ ہی آج تک حکومت نے اس الیکشن کا کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے لہذا موجودہ فیڈریشن غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر کام کر رہی ہے جس کے ساتھ ملنا ان کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔

سمیع اللہ نے کہا کہ اصلاح الدین اور شہناز شیخ نے نہ جانے کیا دیکھ کر فیڈریشن کی حمایت کی ہے اگر یہی کرنا تھا تو پانچ سال پہلے کر لیتے تو آج پاکستانی ہاکی کچھ نہ کچھ بہتر ہوچکی ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ حیران کن طور پر ہر ایک نے اپنی پسند کے سینئیر اور جونیئر کوچ ٹیموں میں لگا دیے ہیں ہر کوچ کی سوچ اور سمت مختلف ہے اور انھیں یقین ہے کہ یہ سب بہت جلد ایکسپوز ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب سلیکشن کا وقت آئے گا تو انھیں نہیں معلوم اصلاح الدین سیکریٹری رانا مجاہد کی مداخلت کو کیسے ہینڈل کریں گےآیا انھیں عہدہ چھوڑنا پڑے گا یا وہ سرتسلیم خم کریں گے؟‘

سمیع اللہ کے خیال میں اختر رسول آصف باجوہ اور رانامجاہد نے گزشتہ دس برسوں میں پاکستان کی سینئیر اور جونیئر ٹیموں کو عالمی رینکنگ میں آٹھویں نویں نمبر پر پہنچا دیا ایسی صورت میں شہناز شیخ اور منظور سینئیر اپنی ٹیموں کو اوپر لانے میں کیا کچھ کرسکیں گے؟

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک ہاکی یا کوئی لیگ کرا کر ہاکی کا معیار بلند کرنے کے بارے میں نہیں سوچا گیا بلکہ بوگس اکیڈمیاں بنا کر نا اہل اور سفارشی کوچ ان میں کھپائے گئے ہیں۔

سمیع اللہ کو شہناز شیخ کے اس بیان پر بھی حیرت ہے جس میں انھوں نے ایشین گیمز کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔

سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ ایشین گیمز اب چند ماہ کی دوری پر ہیں اور اس وقت پاکستانی ٹیم میں کوئی بھی ورلڈ کلاس کھلاڑی موجود نہیں ہے جو کھلاڑی سنہ 2008 میں تھے وہ 2012 میں بھی تھے اور انہی میں سے بیشتر آپ کو سنہ 2016 میں بھی نظر آئیں گے۔

اس وقت ٹیم کو نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کی اشد ضرورت ہے لیکن ایسے کھلاڑی ٹیم میں نہیں آ رہے ہیں لہذا شہنازشیخ اس ٹیم کو نویں سے آٹھویں نمبر پر تو لاسکتے ہیں لیکن موجودہ کھلاڑیوں کے ساتھ وہ پہلی چار پوزیشن میں نہیں آسکتے۔