حکومتی مداخلت خارج از امکان نہیں: توقیر ضیا

کرکٹ بورڈ میں بے یقینی کا براہ راست اثر ٹیم اور اس کی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے: توقیر ضیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکرکٹ بورڈ میں بے یقینی کا براہ راست اثر ٹیم اور اس کی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے: توقیر ضیا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے تحت ذکا اشرف کی بحالی کے بعد حکومتی عمل دخل خارج از امکان نہیں۔

توقیر ضیا نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ذکا اشرف کی بحالی اور نجم سیٹھی کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کو حکومت چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہوگی اور اس تمام صورتِ حال میں اہم سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کیا قدم اٹھائیں گے جو اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے ذکا اشرف سیاسی وار سہہ جائیں کیونکہ پیپلز پارٹی ہی نہیں مسلم لیگ میں بھی ان کا اثر و رسوخ موجود ہے۔

توقیر ضیا نے کہا کہ لوگوں میں عدالت سے رجوع کرنے کا رجحان بڑھ چکا ہے اور اگر اس معاملے میں بھی کسی نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا تو یہ حیران کن بات نہیں ہوگی۔

سابق چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور کوئی بھی سنبھالے، اسے اتنا وقت ضرور ملنا چاہیے کہ وہ تسلسل سے کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کر سکے۔

اس سوال پر کہ ذکا اشرف نے آئی سی سی کے منظور شدہ آئین کے تحت الیکشن کرائے اور منتخب ہوئے، لیکن ان کے ہٹائے جانے پر آئی سی سی کیوں خاموش رہی؟ توقیر ضیا نے کہا کہ آئی سی سی نے اگرچہ ذکا اشرف کا انتخاب تسلیم کر لیا تھا کیونکہ وہ سجھتی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں جمہوری عمل نافذ ہو چکا ہے لیکن جہاں تک آئی سی سی کی خاموشی کا تعلق ہے تو اب وہ پیسہ بنانے میں لگ گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کی توجہ آئی پی ایل اور دوسری لیگوں پر ہے، اسے پاکستانی کرکٹ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ یہاں سے پیسہ نہیں بن رہا ہے۔‘

توقیر ضیا نے کہا کہ پاکستان کا امیج دہشت گردی کی وجہ سے پہلے ہی خراب ہو چکا ہے اور ’دنیا یہ سمجھتی ہے کہ یہاں صرف مذہبی شدت پسند بیٹھے ہیں۔ کرکٹ کے معاملات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان غیر ذمہ دار ملک ہے جس میں صرف بے یقینی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں بے یقینی کے نتیجے میں صرف انتظامی معاملات ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس کا براہ راست اثر ٹیم اور اس کی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی چیف سلیکٹر کے بغیر کام کر رہی ہے اور نئے کوچ کی تقرری کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔