ذکا اشرف بحال، ’جلد چارج لے لوں گا‘

آٹھ مئی کو ذکا اشرف چار سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنآٹھ مئی کو ذکا اشرف چار سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ذکا اشرف کی برطرفی کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل منظور کر لی گئی ہے جس کے بعد وہ بطور چیئرمین پی سی بی کے عہدے پر بحال ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کرکٹ بورڈ کے چیرمین کے عہدے پر بحالی کے بعد ذکا اشرف نے کہا کہ وہ مستعفی نھیں ہوں گے اور کل یا پرسوں اپنے عہدے کا چارج سھنبال لیں گے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ذکاءاشرف نے کہا کہ یہ خدا کی مہربانی ہے اور وہ آزاد عدلیہ کی وجہ سے بحال ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پہلے جب عدالت کا حکم آیا تھا تو انھوں نےفوری طور پر کام روک دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ: ’وہ عدلیہ کا شکرگزار ہیں۔ عدالت نے مختصر فیصلے میں مجھے اسی تاریخ سے بحال کیا ہے جس سے ہٹایا گیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویزنل بینج نے ہمارے تمام پوائینٹس کو تسلیم کیا ہے اور مخالفین کی درخواست مسترد ہوئی ہے۔‘

ذکاء اشرف نے کہا کہ وہ حکومت کا احترام کرتے ہیں۔ اس سوال پر کہ وہ چارج کب سھنبالیں گے ذکاء اشرف نے کہا کہ ابھی تو دفتر کا وقت ختم ہو گیا ہے کل یا پرسوں قذافی سٹیڈیم چلا جاؤں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ اور سیاست الگ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کرکٹ ’نان پالیٹیکل‘ یا سیاست سے پاک یا الگ ہونی چاہیے۔ ذکاء اشرف نے اپنے گزشتہ دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’میں سیاست کو کھبی کرکٹ میں نھیں لایا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کرکٹ پوری قوم کی ہے، اور میں نے ہر سیاسی جماعت کے قائدین کو ٹورنامنٹس میں دعوت دی۔‘

ذکا اشرف نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں کرکٹ میں موجود بدانتظامی کو دور کرنا شامل ہے۔

’کرکٹ کمیٹی کا کام کرکٹ کے معاملات کو دیکھنا ہے میں اس میں مداخلت نھیں کرتا، میرا کام صرف انتظامی امور دیکھنا ہے اور اب دوبار آکر بورڈ میں اس حوالے سے موجود غلط فہمیوں کو دور کروں گا۔‘

انھیں کام کرنے سے روکنے کا حکم جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے مئی 2013 میں جاری کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے درمیان رابطہ ہوا ہے اور دونوں نے طے کیا ہے کہ جب تک عدالت کا تفصیلی فیصلہ نہیں آ جاتا تب تک دونوں ہی پی سی بی کے دفتر نہیں جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کسی قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ذکا اشرف نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی سی بی کے سربراہ کے طور پر آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا۔

ذکا اشرف نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح کرکٹ کے معاملات میں آج کل پائے جانے والی کشمکش اور خرابیوں کو دور کرنا ہے۔

ذکا اشرف کے مطابق ان کا کام انتظامی معاملات کو سنبھالنا ہے جبکہ کرکٹ کے معاملات جاوید میاں داد کی سربراہی میں ان ہی کے دور میں بنائی جانے والی کرکٹ کمیٹی کے سپرد ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے دور میں کرکٹ کا آئین آئی سی سی اور حکومت پاکستان کی مشاورت سے قانونی ماہرین نے تیار کیا تھا کیونکہ پرانے آئین پر آئی سی سی کے خدشات تھے جو دور کر دیے گیے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ پی سی بی کے دفتر جائیں گے تو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کے اعلان اور انڈر 19 ٹیم کے اعلان کے علاوہ کرکٹ کے دوسرے مسائل پر فوری اقدامات کریں گے۔

ذکا اشرف کے وکیل کے مطابق انٹرا کورٹ اپیل میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف ان کے تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے اسے منظور کیا جائے۔

اس انٹرا کورٹ اپیل کی منظوری کے بعد ذکا اشرف چیئرمین پی سی بی کے عہدے پر بحال ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق آرمی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ میجر ریٹائرڈ ندیم سڈل کی جانب سے ذکا اشرف کی انٹرا کورٹ درخواستوں کے خلاف درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے۔

ذکا اشرف کو چیئرمین کے طور پر کام کرنے سے روکنے کا حکم سابق کوچ میجر ریٹائرڈ ندیم سڈل کی درخواست پر دیا گیا تھا جس میں اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخابات میں قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی۔

سماعت میں مدعی نے موقف اختیار کیا تھا کہ کرکٹ بورڈ میں بورڈ آف گورنرز کی نمائندگی درست نہیں تھی کیونکہ اس میں پنجاب کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی تھی جو کہ نہ صرف خلافِ ضابطہ ہے بلکہ کرکٹ بورڈ کے آئین سے بھی متصادم ہے۔

ذکا اشرف کی غیر موجودگی میں نجم سیٹھی پی سی بی کے قائم مقام چیئرمین تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنذکا اشرف کی غیر موجودگی میں نجم سیٹھی پی سی بی کے قائم مقام چیئرمین تھے

عدالت نے درخواست گُزار کے موقف کو تسیلم کرتے ہوئے چوہدری ذکا اشرف کو مزید کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

اس درخواست میں وفاق کے علاوہ پاکستان سپورٹس بورڈ، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو فریق بنایا گیا تھا۔

اس سے پہلے 13 مئی 2013 کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے بھی سندھ ہائی کورٹ میں ذکا اشرف کے بطور چیئرمین پی سی بی کے انتخاب اور طریقہ کار کو چیلنج کیا تھا۔

گذشتہ برس آٹھ مئی کوپاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے تحت ذکا اشرف کو چار سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ کرکٹ کے بین الاقوامی ادارے آئی سی سی نے تمام کرکٹ بورڈز کو اپنے آئین جمہوری انداز میں مرتب کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ان کے معاملات حکومتی مداخلت کے بغیر چلائے جا سکیں۔