چیئرمین پی سی بی کو کام کرنے سے روک دیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چوہدری ذکاء اشرف کو مزید کام کرنے سے روک دیا ہے۔
عدالت نے یہ حکم آرمی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ میجر ریٹائرڈ ندیم سڈل کی درخواست پر دیا جس میں اُنہوں نے استدعا کی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخابات میں قواعدو ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست کی سماعت کی۔ سماعت میں مدعی نے موقف اختیار کیا کہ کرکٹ بورڈ میں بورڈ آف گورنرز کی نمائندگی درست نہیں تھی کیونکہ اس میں پنجاب کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی تھی جو کہ نہ صرف خلاف ضابطہ ہے بلکہ کرکٹ بورڈ کے آئین سے بھی متصادم ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ کے انتخابات کے لیے بھی جو بورڈ تشکیل دیا گیا تھا وہ بھی درست نہیں ہے۔
درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ کے انتخابات کے لیے جو طریقہ کار گُزشتہ ایک دہائی سے تشکیل نہیں دیا جا سکا اُس کو چند ہفتوں کے دوران ہی حمتی شکل دے دی گئی۔
اُنہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کو نہ صرف کام سے روکا جائے بلکہ اُنہیں نہ کوئی اجلاس بُلانے اور نہ ہی کسی اجلاس میں شرکت کرنے کی اجازت دی جائے۔
درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ ان انتخابات کو کالعدم قرار دے کر نئے انتخابات منعقد کروائے جائیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کا موقع مل سکے۔
عدالت نے درخواست گُزار کے موقف کو تسیلم کرتے ہوئے چوہدری ذکاء اشرف کو مزید کام کرنے سے روک دیا ہے اور اس درخواست میں بنائے گئے فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
اس درخواست میں وفاق کے علاوہ،پاکستان سپورٹس بورڈ، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کمیٹی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو فریق بنایا گیا ہے۔
اس سے پہلے تیرہ مئی کوپاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے ذکا اشرف کے انتخاب اور طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا تھا۔
بدھ آٹھ مئی کوپاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے تحت ذکا اشرف کو چار سال کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے تمام کرکٹ بورڈز کو اپنے آئین جمہوری انداز میں مرتب کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ان کے معاملات حکومتی مداخلت کے بغیر چلائے جا سکیں۔



