ذ کا اشرف کے انتخاب کو چیلنج

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے ذکا اشرف کے انتخاب اور طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔
پٹیشن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کو بھی غیرقانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 29 مئی کی تاریخ سماعت کے لیے مقرر کی ہے۔
یاد رہے کہ ذکا اشرف آٹھ مئی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے تحت چار سال کے لیے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔
ان کے انتخاب پر یہ اعتراض سامنے آیا کہ انہوں نے خود کو منتخب کرانے کے لیے جمہوری تقاضے پورے نہیں کیے تھے جس پر ذکا اشرف کو پریس کانفرنس کرنی پڑی اور یہ وضاحت دینی پڑی کہ ان کا انتخاب پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے بارے میں آئی سی سی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کئے جانے کے بعد عمل میں آیا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی نامزدگی جس دس رکنی منتخب بورڈ آف گورنر نے کی اس میں پانچ نمائندے ریجن کے ہیں اور پانچ کا تعلق اداروں سے ہے۔
واضح رہے کہ اس میں پنجاب ریجن شامل ہی نہیں ہے جس کے بارے میں ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ چونکہ پنجاب ریجن نے اپنے الیکشن ہی نہیں کرائے لہذا بورڈ میں اس کی نمائندگی نہیں ہے۔



