’امید ہے کہ اب اچھا کھیلیں گے‘

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر جنوبی افریقہ میں ہے جہاں وہ بدھ کے روز جوہانسبرگ کے وانڈررز میدان میں پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہی ہے ۔
پاکستانی ٹیم کا اسی سال یہ جنوبی افریقہ کا دوسرا دورہ ہے۔ مارچ میں اس نے جنوبی افریقہ کے خلاف اسی جوہانسبرگ میں کھیلا گیا واحد ٹی ٹوئنٹی 95 رنز سے جیتا تھا جس میں کپتان محمد حفیظ نے صرف 65 گیندوں پر چھیاسی رنز اسکور کیے تھے اور عمر گل نے صرف چھ رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
جنوبی افریقہ کے اس دورے میں پاکستانی ٹیم کو اگرچہ ٹیسٹ سیریز میں تین صفر سے شکست ہوئی تھی، تاہم اس نے ایک ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے علاوہ ون ڈے سیریز بھی سخت مقابلے کے بعد تین دو سے ہاری تھی۔ لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور اسے ون ڈے سیریز میں چار ایک اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دو صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کپتان محمد حفیظ ماضی کے اچھے ریکارڈ کی بنیاد پر امید لگائے بیٹھے ہیں کہ پاکستانی ٹیم اس بار بھی جنوبی افریقہ میں ٹی ٹوئنٹی میں اچھا نتیجہ دے گی۔
کوچ ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ ٹیم جیتنے کی پوزیشن میں آنے کے بعد میچز ہاری ہے لہٰذا ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی سیریز میں پاکستان کے نقطۂ نظر سے واحد مثبت پہلو صہیب مقصود کی بیٹنگ رہی ہے جنہوں نے اپنے پہلے دو ون ڈے میچز میں نصف سنچریاں اسکور کیں۔
کوچ واٹمور کا کہنا ہے کہ صہیب کے ساتھ فٹنس کے مسائل تھے لیکن انہوں نے دس کلو وزن کم کیا جس سے اپنے کریئر کے بارے میں ان کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں جنوبی افریقہ تیسرے اور پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔
دونوں ٹیموں کے لیے رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا یہی راستہ ہے کہ سیریز کا نتیجہ دو صفر سے کسی بھی ٹیم کے حق میں آئے لیکن ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ بھیسری لنکا کو دو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں دو صفر سے ہرائے۔



