مرسی کی حمایت پر مصری کھلاڑی پر پابندی

ہتھیلی اور چار انگلیوں کا نشان محمد مرسی کی حامی تنظیم کا نشان ہے
،تصویر کا کیپشنہتھیلی اور چار انگلیوں کا نشان محمد مرسی کی حامی تنظیم کا نشان ہے

مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی حمایت کرنے پر کنگفو کے مصری چیمپیئن محمد یوسف سے طلائی تمغہ واپس لے لیا گیا ہے۔

یوسف کے اہلخانہ کے مطابق انہیں روس میں جاری مقابلوں کے اختتام سے قبل ہی واپس گھر بھیج دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ان کے مستقبل میں ملک کی نمائندگی کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

محمد یوسف کو روس میں جاری کنگفو مقابلوں میں ایسی ٹی شرٹ پہنے دیکھا گیا تھا جس پر محمد مرسی سے اظہارِ یکجہتی کی تحریک کا نشان بنا ہوا تھا۔

مصر میں حکومت رواں برس جولائی میں معزول کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے حامیوں پر سختی کر رہی ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق محمد یوسف کے بھائی حمام کا کہا ہے کہ جب یوسف مقابلہ ادھورا چھوڑ کر واپس وطن پہنچے تو ان سے تفتیش بھی کی گئی۔

حمام کے مطابق حکام نے یوسف کا طلائی تمغہ بھی ان سے لے لیا۔

مصر میں سرکاری میڈیا نے یہ تمغہ لیتے ہوئے یوسف کی جو تصویر شائع اور نشر کی تھی اس میں ان کے لباس پر ایک ہتھیلی اور چار انگلیوں کا نشان نمایاں تھا جو کہ محمد مرسی کی حامی تنظیم کا نشان ہے۔

ان کی مصر آمد سے قبل ملک کی کنگفو ایسوسی ایشن کے سربراہ جمال الجزر نے الاہرام آن لائن کو بتایا تھا کہ ’محمد یوسف کو ان کے رویے کی وجہ سے روس سے بےدخل کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل قریب میں ہونے والے کنگفو کے عالمی مقابلوں میں بھی یوسف کو مصر کی نمائندگی کی اجازت نہیں ہوگی۔تاہم یہ واضح نہیں کہ یوسف پر لگائی گئی یہ پابندی عارضی ہے یا مستقل۔