پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا

ابوظہبی میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔
ابوظہبی میں جاری ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 232 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پاکستان کو جیت کے لیے 40 رنز درکار ہیں۔ پاکستان کو ابتدا میں ہی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان کے ابتدائی تین بیٹسمین نو کے مجموعی سکور پر واپس پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد پاکستان تجربہ کار مڈل آرڈر بیٹسمینوں یونس خان اور مصباح الحق نے صورتحال کو کنٹرول کر لیا اور مزید کسی نقصان چالیس رنز کا ہدف حاصل کر لیا۔
اس سے پہلے پاکستان نے سپن بولر سعید اجمل نے چار جبکہ فاسٹ بولر جنید خان نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ذوالفقار بابر نے دو جبکہ طویل القامت فاسٹ بولر محمد عرفان نے ایک وکٹ حاصل کی۔
تیسرے دن کھیل ختم ہونے پر جنوبی افریقہ نے اپنی دوسری اننگز میں72 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو ئے تھے۔ جمعرات کی صبح جب کھیل شروع ہوا تو ڈی ولئیر نے ایک سرے پر بند باندھے رکھا اور اپنی وکٹ گرنے نہیں دی۔ لیکن دوسری طرف پاکستان کے بالر وقفے وقفے سے وکٹ گراتے رہے۔
<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88519" platform="highweb"/></link>
جنوبی افریقہ کا مجموعی سکور جب ایک سو چار رن پر پہنچا تو ان کی پانچویں وکٹ گر گئی اس کے بعد ایک سو نو پر چھٹی اور ایک سو تینتس پر چوتھی وکٹ گری۔
پاکستان کی طرف جنید خان، سیعد اجمل اور ذوالفقار بابر نے چار دو وکٹ حاصل کئیں۔
آغاز سے ہی پاکستانی بالروں کے راستے میں ایب ڈی ولئیر رہے جو اب بھی کریز پر کھڑے ہیں۔ ایب ڈی ولئیر نے سپن بولر پیٹرسن کے ساتھ ملکر ٹیم کو اننگزکی شکست کی حزیمت سے بچا لیا لیکن ٹیم کے سکور کو اتنا بڑھانے میں ناکام رہے جو پاکستانی ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کر سکے۔
ڈی ولئیرز 90 رنز کے ذاتی سکور پر فاسٹ بولر جنید خان کو اپنی وکٹ دے بیٹھے۔ سپنر رابن پیٹرسن 47 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور کوئی بھی آخری کھلاڑی ان کا ساتھ نہ نبھا سکا۔
تیسرے دن کے کھیل کی تفصیل
تیسرے دن اننگز کا آغاز سمتھ اور پیٹرسن نے کیا۔ پاکستان کی طرف سے محمد عرفان اور جنید خان نے بالنگ کا آغاز کیا لیکن جنید خان کے ایک اوور کے بعد ہی کپتان مصباح الحق نے سیعد اجمل کو بالنگ کے لیے بلا لیا۔
محمد عرفان نے ایک مرتبہ پھر شروع میں پاکستان کو وکٹ دلا دی۔ انہوں نے پیٹرسن کو آؤٹ کیا۔ دوسری طرف جب جنوبی افریقہ کا سکور پچپن رن پر پہنچے تو اجمل نے پیٹرسن کو آؤٹ کر دیا۔
کپتان مصباح نے ایک مرتبہ پھر جنید خان کو بالنگ کے لیے اور انھوں نے ژاک کیلس کو آؤٹ کر دیا۔ کیلس کوئی رن بنائے بنا آؤٹ ہوئے۔
ہاشم آملہ جنہوں نے پہلی اننگز میں سنچری بنائی تھی دوسری اننگز میں ذوالفقار بابر کا شکار بنے اور صرف دس رنز بنائے۔
اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم چار سو بیالیس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی اور یوں اس نے پہلی اننگز میں ایک سو ترانوے رن کی برتری حاصل کر لی۔
کپتان مصباح ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی چوتھی سنچری مکمل کرنے کے فوراً بعد ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88519" platform="highweb"/></link>
مصباح الحق ٹیسٹ کرکٹ میں اکیس نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔ انھوں نے ٹیسٹ میچوں میں اپنی گزشتہ پانچ اننگز میں چار مرتبہ پچاس سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔
مصباح کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کے بلے باز جم نہ سکے اور سعید اجمل اور ذوالفقار بابر جلد آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز خرم منظور اور نئے کھلاڑی شان مسعود نے کیا تھا۔ دونوں نوجوان کھلاڑیوں نے پاکستان کو ایک پراعتماد آغاز فراہم کیا اور سو رن سے زیادہ کی شراکت کی۔پاکستان کے اوپنرز کی طرف سے یہ جنوبی افریقہ کے خلاف دس برس بعد سو رنز سے زیادہ کی شراکت تھی۔
بدھ کو پاکستان نے اپنی پہلی اننگز تین وکٹ کے نقصان پر دو سو تریسٹھ رنز کے سکور پر دوبارہ شروع کی تو مصباح الحق اور گزشتہ روز ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی سنچری مکمل کرنے والے خرم منظور نے سکور میں مزید سینتیس رنز کا اضافہ کیا۔
جب پاکستان کا سکور دو سو نوے پر پہنچا تو خرم منظور ایک سو چھیالیس کے انفرادی سکور پر فیلینڈر کی گیند پر ژاک کیلس کو کیچ دے بیٹھے۔ یہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں کسی بھی پاکستانی بلے باز کا سب سے زیادہ سکور ہے۔
خرم منظور آؤٹ ہونے سے قبل دو سنچری پارٹنر شپس کا حصہ بنے۔ پہلے انہوں نے شان مسعود کے ساتھ پہلی وکٹ کے لیے 135 رنز کی شراکت قائم کی جبکہ بعد میں کپتان مصباح الحق اور خرم نے چوتھی وکٹ کے لیے 112 رنز بنائے۔

ان کی جگہ آنے والے اسد شفیق نے دورۂ زمبابوے میں خراب کارکردگی کا ازالہ نصف سنچری بنا کر کیا۔ انہوں نے مصباح الحق کے ساتھ مل کر 82 رنز کی شراکت قائم کی اور خود 54 رنز بنا کر ڈومینی کی دوسری وکٹ بنے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے اب تک فیلینڈر اور ڈومینی نے دو، دو جبکہ مورکل نے ایک وکٹ حاصل کی ہے۔
پاکستان نے اس ٹیسٹ میں افتتاحی بلے بازوں کی نئی جوڑی شان مسعود اور خرم منظور کو آزمایا اور یہ دونوں اپنے انتخاب پر کھرا اترے۔
اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے اوپنر شان مسعود نے نصف سنچری بنائی اور وہ 75 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
تاہم ان کے علاوہ اپر بیٹنگ آرڈر میں شامل دونوں بلے باز اظہر علی اور یونس خان ناکام رہے اور بالترتیب 11 اور 1 رن پر پویلین لوٹے۔
جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 249 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تھی اور اس اننگز میں ہاشم آملہ سنچری بنا کر نمایاں بلے باز رہے تھے۔
جنوبی افریقہ کے اس دورے میں دونوں ممالک کے مابین دو ٹیسٹ میچ، پانچ ایک روزہ میچ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے جائیں گے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں جنوبی افریقہ اس وقت پہلے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔ اس سیریز میں فتح پاکستان کو ٹیسٹ رینکنگ میں دوبارہ چوتھی پوزیشن دلوا سکتی ہے جو کہ زمبابوے سے ٹیسٹ سیریز برابر ہونے کی وجہ سے اس سے چھن گئی تھی۔



