آملہ کی سنچری، ذوالفقار بابر کی 3 وکٹیں

ذوالفقار بابر نے اپنی زندگی کا پہلا ٹیسٹ چونتیس سال کی عمر میں کھیلا ہے
،تصویر کا کیپشنذوالفقار بابر نے اپنی زندگی کا پہلا ٹیسٹ چونتیس سال کی عمر میں کھیلا ہے

پاکستان کےخلاف پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن جنوبی افریقہ نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر دو سو پینتالیس رنز بنائے جن میں ہاشم آملہ کی سنچری اور ڈومنی کی نصف سنچری شامل ہے۔ دوسری جانب پاکستانی سپنر ذوالفقار بابر نے اپنے پہلے ہی میچ میں تین وکٹیں حاصل کیں۔

ہاشم آملہ اور ڈومنی کی کارکردگی کی وجہ سے جنوبی افریقہ کی اننگز بہت مستحکم ہو ئی ہے۔ آملہ پہلے دن کھیل ختم ہونے تک کریز پر موجود تھے اور ایک سو اٹھارہ رن چکے تھے۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88519" platform="highweb"/></link>

ابوظہبی میں کھیلے جانے والے میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا تو الویرو پیٹرسن اور گریم سمتھ نے اننگز کی شروعات کیں۔

تاہم یہ شراکت زیادہ دیر نہ چل سکی اور محمد عرفان نے پیٹرسن کو آؤٹ کر کے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوائی۔ اس وقت جنوبی افریقہ کا سکور 6 رنز تھا اور پیٹرسن تین رنز ہی بنا سکے۔

عرفان نے ہی دوسرے اوپنر گریم سمتھ کو بھی 15 کے انفرادی سکور پر وکٹوں کے پیچھے کیچ کروایا۔

جب جنوبی افریقہ کا سکور 43 پر پہنچا تو جنید خان نے ژاک کیلس کو آؤٹ کر کے اپنی پہلی اور مجموعی طور پر تیسری وکٹ لی۔

ایب ڈی ولئیر عمر اکمل کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوئے جبکہ ڈومنی 57 رنز بنا کر ذوالفقار بابر کی بال پر شفیس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

ڈو پلیسس بھی ذوالفقار کی بال ہر شفیق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے جبکہ ذولفقار ہی نے پیٹرسن کو آؤٹ کیا۔

فیلنڈر سعید اجمل کی بال پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

پاکستان نے اس ٹیسٹ میچ میں دو نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا ہے جن میں اوپنر شان مسعود اور چونتیس سالہ سپنر ذوالفقار بابر شامل ہیں۔ یہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچ کھیلنے والے دو سو پچاسویں اور دو سو اکیاونویں کھلاڑی ہیں۔

ذوالفقار بابر اس سے قبل پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں جبکہ شان مسعود پاکستان کی انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم اور پاکستان اے کی جانب سے کھیل چکے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے اس دورے میں دونوں ممالک کے مابین دو ٹیسٹ میچ، پانچ ایک روزہ میچ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے جائیں گے۔

حفاظتی وجوہات کی بنا پر ملک سے بین الاقوامی کرکٹ ختم ہونے کے بعد سے پاکستان متحدہ عرب امارات میں میزبانی کے فرائض انجام دیتا رہا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں جنوبی افریقہ اس وقت پہلے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔

اس سیریز میں فتح پاکستان کو ٹیسٹ رینکنگ میں دوبارہ چوتھی پوزیشن دلوا سکتی ہے جو کہ زمبابوے سے ٹیسٹ سیریز برابر ہونے کی وجہ سے اس سے چھن گئی تھی۔

جنوبی افریقہ نے اپنے پانچوں گذشتہ ٹیسٹ میچ جیتے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے مابین اب تک کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں سے 11 میں جنوبی افریقہ اور صرف 3 میں پاکستان فاتح رہا ہے۔