’پہلے دباؤ ملکی ہوتا تھا، اب پیسہ ہے‘

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سابق ٹیسٹ امپائر محبوب شاہ کا کہنا ہے کہ آج کل امپائرز کا مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ہونا لالچ کا نتیجہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ماضی کے امپائرز پر دباؤ شخصی اور ملکی ہوا کرتا تھا لیکن اب پیسے نے اس کی جگہ لے لی ہے۔
محبوب شاہ کا شمار پاکستان کے انتہائی سینئر اور تجربہ کار امپائرز میں ہوتا ہے جو اٹھائیس ٹیسٹ اور بتیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کرچکے ہیں۔
ان دنوں وہ ایشیئن کرکٹ کونسل کے تحت مختلف ممالک میں امپائرنگ کورسز کی نگرانی کرتے ہیں۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں محبوب شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں امپائرنگ کا شعبہ کبھی بھی خاص اہمیت کا حامل نہیں رہا اور اسے احترام کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ چند ایک امپائرز کی عزت کی بھی جاتی تھی تو وہ امپائرنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اپنے اخلاق اور شخصیت کی وجہ سے تھی۔
محبوب شاہ کا کہنا ہے کہ جب وہ امپائرنگ کرتے تھے اس وقت بھی کھلاڑیوں اور منتظمین کی جانب سے امپائرز زبردست دباؤ کا شکار تھے اور یہ دباؤ ان کے من پسند فیصلے کرنے سے متعلق ہوا کرتا تھا۔
محبوب شاہ کا کہنا ہے کہ خود ان پر بھی غیرمعمولی دباؤ رہا۔ انہوں نے ایک بار تو پریشان ہوکر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ بھی کرلیا تھا حالانکہ انہوں نے زندگی بھر کسی کے دباؤ میں آکر فیصلے نہیں دیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل امپائرز پر سب کی نظریں اس لیے زیادہ ہیں کہ وہ سماجی طور پر بہت زیادہ لوگوں میں گھل مل چکے ہیں۔ کھیل میں پیسہ بہت آگیا ہے اور اسی پیسے کی چمک دمک میں امپائرز کو من پسند فیصلوں کے لیے قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ ماضی میں یہ دباؤ شخصی یا ملکی ہوا کرتا تھا۔
محبوب شاہ نے کہا کہ امپائرنگ کے موجودہ معیار میں ماضی کے مقابلے میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے حالانکہ اس وقت امپائرز کے لیے سہولتیں بڑھ چکی ہیں اور چند امپائرز کرکٹ کے قوانین کو سمجھنے کے لیے محنت بھی کر رہے ہیں۔
محبوب شاہ نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آئی سی سی کا ایلیٹ پینل دنیا کے بہترین امپائرز پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایلیٹ پینل میں ہر ملک سے نامزد ہونے والے امپائرز شامل ہوتے ہیں لہذا ضروری نہیں کہ وہ بہترین امپائر بھی ہوں۔
محبوب شاہ کہتے ہیں کہ اچھے امپائرز پسند ناپسند کی وجہ سے شامل ہونے سے رہ جاتے ہیں۔



