آملہ کچھ کھیلے بھی عمدہ، کچھ قسمت بھی مہربان رہی

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
عالمی نمبر ایک جنوبی افریقی ٹیم ابوظہبی ٹیسٹ کے پہلے دن گرم موسم سے زیادہ پاکستان کی نپی تلی بولنگ سے پریشان رہی۔
ایک کے بعد ایک اہم وکٹ سے ہاتھ دھونے کے بعد معقول سکور تک پہنچنے کی آخری امید اب عالمی نمبر ایک بیٹسمین ہاشم آملہ سے وابستہ رہ گئی ہے ۔
ہاشم آملہ پاکستان کے خلاف عمدہ کارکردگی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے بارہویں ٹیسٹ میں دوسری سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ ان کی بیسویں ٹیسٹ سنچری ہے۔
اگرچہ پاکستانی ٹیم کو انہیں رن آؤٹ کرنے کے مواقع بھی ملے لیکن قسمت آملہ پر مہربان رہی۔
اگر ہاشم آملہ نے پہلے دن اپنی ٹیم کو کم سکور پر آؤٹ ہونے کی خفت سے بچایا تو پاکستان کی شہ سرخی ذوالفقار بابر سے بنی جو عبدالرحمن کے ان فٹ ہونے کے نتیجے میں سرپرائز پیکج کے طور پر چونتیس سال تین سو آٹھ دن کی عمر میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے تیسرے عمر رسیدہ پاکستانی کرکٹر بنے اور تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ابوظہبی میں ٹیسٹ میچ کا سوچ کر سپنرز کے منہ میں پانی میں آجاتا ہے لیکن پہلا دن فاسٹ بولرز کو بھی مایوس نہیں کرتا۔ یہ ہم ہمیشہ دیکھتے آئے ہیں۔
تین سال قبل جنوبی افریقہ نے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن تین سو گیارہ رنز کے عوض اگرچہ صرف پانچ وکٹیں گنوائی تھیں لیکن ان میں سے بھی چار فاسٹ بولر تنویر احمد نے حاصل کی تھیں۔ دو ہزار گیارہ میں جنید خان کی پانچ اور عمرگل کی دو وکٹوں نے سری لنکا کی پہلی اننگز ایک سو ستانوے پر سمیٹ دی تھی اور گزشتہ سال سٹورٹ براڈ کی چار وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کو دو سو ستاون پر پویلین کی راہ دکھائی تھی۔
کیپلر ویسلز کے بقول سخت اور خشک وکٹ بیٹنگ کے لیے آئیڈیل تھی۔ محمد عرفان نے اپنے قد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایلویرو پیٹرسن کی وکٹ حاصل کی۔
کپتان گریم سمتھ کی وکٹ کے لیے عرفان ڈی آر ایس کے شکرگزار تھے جس کا استعمال اس سیریز میں ہاٹ سپاٹ کے بغیر ہورہا ہے۔
ژاک کیلس کےجنید خان کے ہاتھوں آؤٹ ہونے کے بعد ٹیسٹ میچوں میں پچاس سے زائد کی اوسط رکھنے والے ہاشم آملہ اور اے بی ڈی ویلیئرز کریز پر اکٹھے ہوئے تو مہمان ٹیم کو ایک بڑی شراکت کی ضرورت تھی لیکن اے بی ڈی ویلیئرز عدنان اکمل کی مستعدی کا شکار بن گئے۔
جے پی ڈومینی کی نصف سنچری صورتحال کو کسی حد تک بہتر کرنے میں کام آئی ۔
ذوالفقار بابر اننگز کے دسویں اوور میں متعارف کرائے گئے جبکہ سعید اجمل نے بائیسویں اوور میں گیند سنبھالی۔
سعید اجمل کی بدقسمتی کہ ڈومینی کا کیچ وکٹ کیپر عدنان اکمل نے ڈراپ کیا لیکن دس گیندیں بعد ہی وہ ذوالفقار بابر کی پہلی ٹیسٹ وکٹ بن گئے اور پھر ڈوپلیسس اور رابن پیٹرسن کی وکٹوں کے سامنے بھی ذوالفقار بابر کا نام درج ہوا۔سعید اجمل کے چہرے پر مسکراہٹ اپنے ستائسویں اوور میں فلینڈر کو آؤٹ کرکے آئی۔
سعید اجمل کے لیے یہ سیریز بہت بڑا امتحان ہے جیسا کہ کپتان مصباح الحق کہہ چکے ہیں کہ سعید اجمل کو جنوبی افریقہ کے بیٹسمین اعتماد سے کھیلتے ہیں لہذا انہیں کامیابی کے لیے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔
بائیں ہاتھ کے اوپنر شان مسعود کے لیے ٹیسٹ کیپ ان کی چوبیسویں سالگرہ کا تحفہ ضرور ہوسکتی ہے لیکن یہ فیصلہ اس لیے حیران کن ہے کہ انہیں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کا تجربہ رکھنے والے احمد شہزاد پر فوقیت دی گئی ہے۔
شان مسعود نے گزشتہ فرسٹ کلاس سیزن میں ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے گیارہ سو تیئس رنز بنائے تھے اور سلیکٹرز کا دعویٰ ہے کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں عمران فرحت اور توفیق عمر پر ترجیح دی گئی ہے جو ایک دہائی سے ٹیم میں ہونے کے باوجود مستقل مزاجی نہیں دکھاپائے۔



