ویمبلڈن 2013: اینڈی مرئے اور جوکووچ فائنل میں

ویمبلڈن 2013 ٹینس ٹورنامنٹ میں اتوار کو مردوں کے سنگل مقابلوں کے فائنل میں برطانیہ کے اینڈی مرئے اور سربیا کے نوواک جوکووچ آمنے سامنے ہوں گے۔
جمعہ کو کھیلے گئے دونوں سیمی فائنلز کے مقابلے کافی سخت رہے۔ جوکووچ نے ارجنٹینا کے مارٹن ڈیلپوٹرو کو 5 - 7, 6 - 4, 6 - 7 (2-7) 7 - 6 (8-6), اور 3 - 6 سے شکست دی جبکہ مرئے نے پولینڈ کے جرزی جانووچ کو 7 - 6 (7-2)، 4 - 6، 4- - 6، 3 - 6 سے شکست دی۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے سٹار کھلاڑی اینڈی مرئے لگاتار دوسری بار ویمبلڈن کے فائنل میں پہنچے ہیں۔ گذشتہ سال فائنل میں انہیں روجر فیڈرر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اگر وہ اتوار کو ہونے والے فائنل میں جیت جاتے ہیں تو 77 سال میں یہ اعزاز جیتنے والے وہ پہلے برطانوی مرد کھلاڑی بن جائیں گے۔سنہ 1936 میں فریڈ پیری ویمبلڈن سنگلز کا خطاب جیتنے والے آخری برطانوی تھے۔
اینڈی مرئے اور جانووچ کا سیمی فائنل میچ تیسرے سیٹ کے بعد روشنی کم ہونے کی وجہ سے کچھ دیر روکنا پڑا اور سینٹر کورٹ کی چھت بند کرنی پڑی۔
اگرچہ مرئے کو اس بات سے شکایت تھی لیکن پھر شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے میچ اپنے نام کر لیا۔
جیت کے بعد مرئے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک بہت مشکل میچ تھا اور میں نے ویمبلڈن میں اس سال جتنے بھی میچ کھیلے، یہ ان سب سے بالکل الگ تھا۔‘
دوسری جانب ٹینس کے نمبر ایک کھلاڑی نوواک جوکووچ کا یہ مسلسل 13 واں گرینڈ سلیم سیمی فائنل تھا۔
اتوار کو اگر وہ جیتنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ان کا ساتواں گرینڈ سلیم اور دوسرا ویمبلڈن ٹائیٹل ہوگا۔
نوواک جوکووچ اور آٹھویں نمبر کے کھلاڑی ڈیل پوٹرو کے درمیان ہونے والا سیمی فائنل میچ ویمبلڈن کی تاریخ کا سب سے لمبا مردوں کا سیمی فائنل ثابت ہوا۔ یہ میچ چار گھنٹے 44 منٹ تک چلتا رہا۔
اس سے پہلے سنہ 1989 میں بورس بیکر اور آیوان لینڈل کے درمیان سب سے طویل فائنل مقابلہ ہوا تھا جسے بیکر نے جیتا تھا۔
میچ جیتنے کے بعد جوکووچ نے کہا ’یہ میرے اب تک کے سب سے شاندار میچوں میں سے ایک تھا۔‘
پہلا سیمی فائنل توقعات سے زیادہ طویل وقت تک جاری رہنے کی وجہ سے اینڈی مرئے اور جانووچ کے درمیان ہونے والا دوسرا میچ بھی دیر سے شروع ہوا۔



