ومبلڈن: لباس کے سخت قوانین

ومبلڈن: لباس کے سخت قوانین

آل انگلینڈ کلب کے قوانین کھلاڑیوں کے کپڑوں کے حوالے سے بہت سخت ہیں۔ سات بار ومبلڈن چیمپیئن راجر فیڈرر کو کہا گیا تھا کہ وہ ایسے جوتے نہیں پہن سکتے جن کے تلوے نارنجی رنگ کے ہوں۔
،تصویر کا کیپشنآل انگلینڈ کلب کے قوانین کھلاڑیوں کے کپڑوں کے حوالے سے بہت سخت ہیں۔ سات بار ومبلڈن چیمپیئن راجر فیڈرر کو کہا گیا تھا کہ وہ ایسے جوتے نہیں پہن سکتے جن کے تلوے نارنجی رنگ کے ہوں۔
حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ومبلڈن کے پہلے میچ کے بعد کئی کھلاڑیوں سے ان کے لباس کے حوالے سے بات کی ہے۔ ان کھلاڑیوں میں روس کی ماریا شراپووا بھی شامل ہیں جن کو فیڈرر کی طرح نارنجی رنگ پر ٹوکا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنحکام نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ومبلڈن کے پہلے میچ کے بعد کئی کھلاڑیوں سے ان کے لباس کے حوالے سے بات کی ہے۔ ان کھلاڑیوں میں روس کی ماریا شراپووا بھی شامل ہیں جن کو فیڈرر کی طرح نارنجی رنگ پر ٹوکا گیا ہے۔
سنہ 2009 کے ومبلڈن میں بھی فیڈرر کو ان کے لباس پر اس وقت متنبہ کیا گیا جب وہ سنہری کام والی جیکٹ پہن کر آئے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2009 کے ومبلڈن میں بھی فیڈرر کو ان کے لباس پر اس وقت متنبہ کیا گیا جب وہ سنہری کام والی جیکٹ پہن کر آئے۔
سنہ 2007 میں فرانس کی ٹاٹیانا گولوون نے اپنے سفید ٹینس لباس کے نیچے لال رنگ کی ہاٹ پینٹس پہنیں۔ نوجوان کھلاڑی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے کیونکہ ان کی سکرٹ ہاٹ پینٹس سے لمبی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2007 میں فرانس کی ٹاٹیانا گولوون نے اپنے سفید ٹینس لباس کے نیچے لال رنگ کی ہاٹ پینٹس پہنیں۔ نوجوان کھلاڑی کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے کیونکہ ان کی سکرٹ ہاٹ پینٹس سے لمبی ہے۔
ایک طرف ومبلڈن کی انتظامیہ کھلاڑیوں کے لباس کے حوالے سے بڑی سخت ہے لیکن وہ بالوں کے حوالے سے کچھ نہیں کہتے۔ یہ تصویر 1997 میں وینس ولیئم کی ہے جنہوں نے بالوں میں مختلف رنگ کے موتی پہن رکھے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنایک طرف ومبلڈن کی انتظامیہ کھلاڑیوں کے لباس کے حوالے سے بڑی سخت ہے لیکن وہ بالوں کے حوالے سے کچھ نہیں کہتے۔ یہ تصویر 1997 میں وینس ولیئم کی ہے جنہوں نے بالوں میں مختلف رنگ کے موتی پہن رکھے ہیں۔
اسی طرح قوانین میں کھلاڑیوں کے جسموں پر ٹیٹوز کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ اس تصویر میں امریکی کھلاڑی بیتھنی میٹک سینڈز کے بازو پر ٹیٹو نظر آ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشناسی طرح قوانین میں کھلاڑیوں کے جسموں پر ٹیٹوز کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ اس تصویر میں امریکی کھلاڑی بیتھنی میٹک سینڈز کے بازو پر ٹیٹو نظر آ رہا ہے۔
سنہ 2002 میں روسی کھلاڑی اینا کورنیکووا کو ومبلڈن میچ میں سکرٹ کے نیچے پہنی نکر اتارنے کا کہا گیا کیونکہ ان وہ کالے رنگ کی تھی۔ اینا نے اپنے کوچ کی بیگی نکر پہنی۔ لیکن انہوں نے نکر پہننے سے قبل اس نکر پر لگا ہوا سپانسر کا سٹکر اتارا۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 2002 میں روسی کھلاڑی اینا کورنیکووا کو ومبلڈن میچ میں سکرٹ کے نیچے پہنی نکر اتارنے کا کہا گیا کیونکہ ان وہ کالے رنگ کی تھی۔ اینا نے اپنے کوچ کی بیگی نکر پہنی۔ لیکن انہوں نے نکر پہننے سے قبل اس نکر پر لگا ہوا سپانسر کا سٹکر اتارا۔
اپنے کیریئر کے آغاز میں آندرے اگاسی نے ومبلڈن میں حصہ لینے سے اس لیے انکار کیا کہ وہ اپنی ڈینم کی نکر اور مختلف رنگوں کی شرٹ اتارنے کو تیار نہیں تھے۔ امریکی کھلاڑی نے 1991 میں ومبلڈن کے قوانین کے مطابق لباس پہنے کا ارادہ کیا۔ لیکن انہوں نے اپنی بالی اتارنے سے انکار کیا۔
،تصویر کا کیپشناپنے کیریئر کے آغاز میں آندرے اگاسی نے ومبلڈن میں حصہ لینے سے اس لیے انکار کیا کہ وہ اپنی ڈینم کی نکر اور مختلف رنگوں کی شرٹ اتارنے کو تیار نہیں تھے۔ امریکی کھلاڑی نے 1991 میں ومبلڈن کے قوانین کے مطابق لباس پہنے کا ارادہ کیا۔ لیکن انہوں نے اپنی بالی اتارنے سے انکار کیا۔
اس وقت کے فیشن کے مطابق امریکی کھلاڑی این وائٹ نے 1985 کے ومبلڈن میں جسم سے چپکا ہوا ایک پیس کا لباس پہنا۔ لیکن آل انگلینڈ کلب نے اس پر اعتراض کیا۔
،تصویر کا کیپشناس وقت کے فیشن کے مطابق امریکی کھلاڑی این وائٹ نے 1985 کے ومبلڈن میں جسم سے چپکا ہوا ایک پیس کا لباس پہنا۔ لیکن آل انگلینڈ کلب نے اس پر اعتراض کیا۔
تین بار ومبلڈن چیمپیئن بننے والے امریکی کھلاڑی جان میکنرو بالوں پر لال رنگ کا بینڈ پہنتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنتین بار ومبلڈن چیمپیئن بننے والے امریکی کھلاڑی جان میکنرو بالوں پر لال رنگ کا بینڈ پہنتے تھے۔