بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر عہدے سے الگ

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے صدر این سری نواسن نے فی الحال اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
ان کی جگہ مغربی بنگال کرکٹ بورڈ کے صدر اور بی سی سی آئی کے سابق صدر جگموہن ڈالمیا عبوری صدر ہوں گے۔
آئی پی ایل میں سٹے بازی اور فکسنگ کی بات سامنے آنے پر بھارت کے جنوبی شہر چنئی میں اتوار شام کو بورڈ کے ہنگامی اجلاس کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
خبروں میں بتایا گیا کہ جگموہن ڈالمیا کے نام کی تجویز بورڈ کے نائب صدر اور بی جے پی کے سرکردہ رہنما ارون جیٹلی نے دی تھی۔
بورڈ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جب تک آئی پی ایل میں فکسنگ کے معاملے کی جانچ مکمل نہیں ہو جاتی وہ (سری نیواسن) اپنی صدارتی ذمہ داریاں نہیں نبھائيں گے اور اس عبوری دور میں جگموہن ڈالمیا بورڈ کے روز مرہ کے معمولات دیکھیں گے۔‘
بورڈ کے جوائنٹ سکریٹری کے ذریعے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’کمیٹی نے بورڈ کے سکریٹری سنجے جگدلے اور خزانچی اجے شرکے میں مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور بورڈ کے وسیع تر مفاد میں ان سے اپنے استعفے واپس لینے کی درخواست بھی کی۔‘
جگدلے کا کہنا ہے کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس نہیں لیں گے۔

واضح رہے کہ انڈین پریميئر لیگ یعنی آئي پی ایل میں فکسنگ کے الزام کے بعد کرکٹ بورڈ پر کافی دباؤ تھا لیکن بورڈ کے صدر نے یہ کہتے ہوئے مستعفی ہونے سے انکار کیا تھا کہ چونکہ وہ اس میں ملوث نہیں ہیں اس لیے وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔
لیکن جب آئی پی ایل کی ٹیم چنئی سپر کنگز کے چیف ایگزیکٹو افسر اور کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن کے داماد گروناتھ میپّن کا سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں نام آیا تو ان پر دباؤ بڑھنے لگا۔
گروناتھ میپّن کو جانچ مکمل ہونے تک پہلے ہی ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل انڈین پریمیئر لیگ میں فکسنگ کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد لیگ کے چیئرمین راجیو شکلا نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس سے ایک دن پہلے سنیچر کی شام کیا۔



