
اینڈی فلاور کا کہنا تھا کہ کیون پیٹرسن کا معاملہ اس میں ملوث تمام اطراف کے لیے ایک افسوس ناک موقع ہے
جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز اور آئندہ ماہ سری لنکا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے لیے انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس میں شاندار کارکردگی کے باوجود بلے باز کیون پیٹرسن کو شامل نہیں کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے بتیس سالہ پیٹرسن کو جنوبی افریقہ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے تیسرے میچ کے لیے ٹیم سے نکال دیا گیا تھا جب انہوں نے دوسرے میچ کے دوران اپنی ہی ٹیم کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے خلاف پیغامات حریف ٹیم کو بھیجے تھے۔
انگلینڈ یہ ٹیسٹ سیریز دو صفر سے ہار گیا اور آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں جنوبی افریقہ پہلے جبکہ انگلینڈ دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
ٹیموں کے اعلان کے موقع پر قومی ٹیم کے سلیکٹر جیف ملر کا کہنا تھا کہ پیٹرسن کے مستقبل کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس مرحلے پر ان کی ٹیم میں شمولیت پر غور نہیں کیا گیا۔
جمعے کو کاردف میں شروع ہونے والی پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں ٹی ٹوئنٹی کپتان سٹوئرٹ بروڈ کو بھی آئندہ ماہ ہونے والے ورلڈ کپ کے پیشِ نظر آرام کا وقت دیا گیا ہے۔
جیف ملر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں بروڈ کو دو ہفتوں کے لیے کرکٹ نہ کھیلنے سے انہیں اور ٹیم دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔
مئی میں کیون پیٹرسن نے بین الاقوامی سطح پر ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی تاہم بعد میں انہوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔
جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے پیٹرسن اس انگلینڈ ٹیم کا ایک اہم حصے تھے جس نے دو سال قبل ٹی ٹوئنٹی کا عالمی کپ جیتا تھا۔
انگلینڈ کے کوچ اینڈی فلاور کا کہنا تھا کہ کیون پیٹرسن کا معاملہ اس میں ملوث تمام اطراف کے لیے ایک افسوس ناک موقع ہے۔
انہوں نے سکائی سپورٹس ٹی وی کو بتایا کہ البتہ پیٹرسن نے گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا تاہم اس وقت ایسے حالات ہیں کہ انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
انگلینڈ کے کپتان ایڈرو سٹرائوس کے بیان کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کیون پیٹرسن کے حوالے سے اعتماد اور باہمی احترام کے معاملات کو حل کرنا زیادہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ واضح رہے کہ یہ صرف کپتان اور پیٹرسن کے مابین اح،لافات نہیں ہیں۔






























