
’پیٹرسن نے پیغامات بھیجے تھے تاہم وہ صرف دل لگی کے مترادف ہیں‘
انگلش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ایلک سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ انگلش بلے باز کیون پیٹرسن نے جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کو مبینہ طور پر اپنے ہی ملک کی ٹیم کے کھلاڑیوں پر تنقید پر مبنی تحریری پیغامات بھیجنے پر معافی مانگ لی ہے۔
پیٹرسن کو ان پیغامات کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے لیے بھی ڈراپ کر دیا گیا ہے اور اس معاملے پر ان کی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے بات چیت جاری ہے۔
بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے ایلک سٹیورٹ نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ پیٹرسن نے معافی مانگ لی ہے اور وہ اب کھیل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔’میں سن رہا ہوں کہ اس(پیٹرسن) نے معافی مانگ لی ہے لیکن ابھی بورڈ کی جانب سے اسے کوئی جواب نہیں دیا گیا‘۔
گزشتہ ہفتے کیون پیٹرسن نے اشارہ دیا تھا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے مکمل طور پر ریٹائر ہو سکتے ہیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنے یہ الفاظ واپس لے لیے اور یہ عزم کیا کہ وہ انگلینڈ کے لیے ہر طرح کی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔
ای سی بی نے پیٹرسن سے کہا تھا کہ وہ اتوار تک بورڈ کو یہ یقین دہانی کرا دیں کہ انہوں نے کپتان اینڈریو اسٹراس کے خلاف توہین آمیز پیغامات نہیں بھیجے لیکن پیٹرسن نے کوئی جواب نہیں دیا جس کی بناء پر بورڈ نے انہیں لارڈ ٹیسٹ کے لیے بھی ٹیم سے ڈراپ کر دیا۔
دوسری طرف جنوبی افریقہ کے ٹیم منیجر ڈاکٹر محمد موسی جی نے کہا ہے کہ پیٹرسن نے پیغامات بھیجے تھے تاہم وہ صرف دل لگی کے مترادف ہیں۔
جنوبی افریقی آل راؤنڈر ژاک کیلس نے بھی کیون پیٹرسن کا حوصلہ بڑھایا ہے اور کہا ہے کہ ’مجھے یقین ہے کہ یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔ اتنے بڑے کھلاڑی کو عالمی منظر سے دور نہیں رکھا جا سکتا‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں پیٹرسن کے لیے اب بھی بہت کرکٹ موجود ہے اور وہ وہ پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا‘۔






























