آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ: میلبرن کے دو اہم کردار وراٹ کوہلی اور بابر اعظم مداحوں کے دل جیت سکیں گے؟

بابر اعظم اور روہت شرما

،تصویر کا ذریعہAni

،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور انڈین ٹیم کے کپتان روہت شرما
    • مصنف, جسوندر سدھو
    • عہدہ, سپورٹس صحافی

آج اتوار کے روز انڈیا اور پاکستان آئی سی سی ٹی 20 عالمی کپ کے اپنے پہلے میچ میں ایک لاکھ تماشائیوں کی گنجائش والے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ پر ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔

ان دونوں ٹیموں کے کے درمیان ہونے والے میچ دو کرداروں کے ارگرد گھومتی کسی بالی ووڈ فلم کی طرح ہے جس کا اختتام، دلچسپ، ٹریجک اور پریشان کُن ہو سکتا ہے لیکن اس بار کا سکرپٹ ذرا الگ سا نظر آتا ہے۔

گذشتہ برس 24 اکتوبر کو دبئی میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی دس وکٹ سے فتح نے کہانی میں نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ دونوں طرف کے کھلاڑی تناؤ میں نہیں۔ گراؤنڈ پر ان کی یار، دوست جیسی بات چیت سکون دینے والی ہے۔ تناؤ بڑھانے میں آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کرنے والے سابق کرکٹرز بھی قدرے خاموش ہیں۔

سنیل گاؤسکر کا بابر اعظم کی سالگرہ میں شامل ہونا فضا کو بہتر بناتا ہے۔ اس سارے پس منظر میں اس میچ کا رتبہ کہیں زیادہ بڑا ہے۔ اس کی وجہ وراٹ کوہلی اور بابر اعظم جیسے دو کرداروں کی موجودگی ہے بشرطیکہ بارش شو کو خراب نہ کر دے۔

کوہلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وراٹ کے رتبے اور بر ینڈ ویلیو کا میچ

وراٹ کوہلی کا یہ خراب دور ہے۔ کپتانی جانے کے بعد وہ پہلی بار کسی بڑے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ پاکستان کے خلاف وراٹ کے نو میچوں میں 341 گیندوں پر 119 کے سٹرائک ریٹ سے 406 رن ہیں۔ ان میں چار نصف سنچریاں بھی شامل ہیں ۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جیت اور ہار کے درمیان بُرے دور کا سامنا کرنے والے وراٹ کوہلی ایک اہم کھلاڑی ہوں گے۔ پاکستان کے خلاف اکیلے اپنے دم پر میچ جیتنا ان کے پرانے ’چارم‘ اور رتبے کو بحال کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

اگر انڈین ٹیم ٹورنمامنٹ میں کامیاب ہوتی ہے اور اس میں وراٹ کا اہم رول ہوتا ہے تو اس بات پر بھی بحث تھم جائے گی کہ ان کا ٹی-20 کریئر کتنا اور چلے گا۔ سنہ 2009 سے اب تک وراٹ نے آٹھ ون ڈے ، دو ٹی -20 ایک ٹسٹ میچ فائنل کھیلا ہے۔

سنہ 2013 کے عالمی ٹی-20 میں سری لنکا کے خلاف ان کے 77 رنز کے سکور کو چھوڑ کر وہ سبھی مین ناکام رہے ہیں۔ ویسے بھی عمر کے لحاظ سے یہ ٹورنامنٹ ان کا آخری عالمی کپ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایک بہترین کرکٹر کے طور پر اپنے رتبے اور اپنی برینڈ ویلیو کو بچائے رکھنے کے لیے وراٹ کو اپنے بلے کو دلی کے آٹو رکشہ کے میٹر سے بھی تیز چلانا ہو گا۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

بابر : ایک چیمپین سائڈ ہیرو

دوسری جانب بابر اعظم ہیں۔ کسی فلم کے ایسے سائڈ ہیرو کی طرح جو کبھی بھی آسکر حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ لاہور کے اس بیٹسمین نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر دوسرے سرے پر انھیں رضوان جیسا کھلاڑی میسر آ جائے تو وہ کسی بھی ٹیم کے خلاف میچ جتوا سکتے ہیں۔

لیکن پھر بھی پاکستانی سپورٹس میڈیا کا ایک طبقہ بظاہر ان سے خوش نہیں ہے۔

اسے لگتا ہے کہ سکور بنانے میں بابر زیادہ گیند خرچ کرتے ہیں اور وہ آئی سی سی ٹرافی جتوانے میں ان کی صلاحیت پر شک کرتے ہیں۔ لیکن بھروسے مند بابر رنز کا ایک ایسا چیک ہے جو صرف سپیلنگ یا تاریخ غلط ہونے پر ہی باؤنس ہو سکتا ہے۔

بابر کی عمدہ فارم سے وراٹ کو ترغیب ملنی چاہیے۔

ایشیا کپ میں شاہین آفریدی کا باؤنڈری پرملاقات کے دوران وراٹ سے یہ کہنا کہ ’بھائی جان آپ کے لیے دعائیں کر رہے ہیں کہ آپ واپس فارم میں آئیں‘ اس بات کا عکاس ہے کہ دلی کے اس بیٹسمین کو پاکستان میں بھی مقبولیت حاصل ہے۔ انڈیا میں بھی بابر کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ہے۔

میچ سے قبل سنیچر کے روز انڈین شائقین نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے
،تصویر کا کیپشنمیچ سے قبل سنیچر کے روز انڈین شائقین نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے

یہ میچ اور ٹورنامنٹ بابر اور وراٹ کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہاں انھیں خود کو دنیا کا سب سے عمدہ بلے باز ثابت کرنے کا موقع ملے گا۔ اس نسل کے کھلاڑیوں میں جو روٹ کو چھوڑ دیں تو کین ولیمسن اور سٹیو سمتھ بھی وراٹ کی طرح خراب فارم سے گزر رہے ہیں۔

بابر اس میں ٹاپ پر ہیں۔ ٹورنامنٹ مین دو بڑے میچ ایک بار پھر ان دونوں کو ٹاپ کا درجہ حاصل کرنے کی جد وجہد کی طرف لے جائیں گے۔

ٹیم انڈیا کے اعداد و شمار اگر دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس کے ٹاپ کے پانچ بلے باز ہی پورے میچ کو سنبھالتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ دو برس میں فائیو ڈاؤن سے نیچے کے بییٹسمین کو میچ میں رن بنانے کے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ جب کبھی ایسے حالات سامنے آئے تو ٹیم تاش کے پتوں کی طرح ڈھے گئی۔

جسپریت بومرا زخمی ہونے کے سبب ٹورنامنٹ سے باہر ہیں۔

ابتدائی دو اوورز میں ٹاپ آرڈر کی وکٹ حاصل کرنے کی بومرا کی صلاحیت انڈیا کے میچ جیتنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انڈین ٹیم کو بومرا کے بغیر میج جیتنے کا ہنر ابھی سیکھنا باقی ہے۔ ان کی جگہ محمد شامی پر داؤ لگایا گیا ہے جو اس ٹونامنٹ کے لیے کسی بھی سکیم کا حصہ نہیں تھے۔

یہ مجبوری انڈین ٹیم کی طاقت بنتی ہے یا کمزوری یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔