پاکستان بمقابلہ انڈیا: میلبرن گراؤنڈ کے کیوریٹر بھی انڈیا پاکستان میچ کے لیے پُرجوش

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، میلبرن

مائیکل سلواٹور کو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کی مٹی اور گھاس سے اتنا ہی پیار ہے جتنا کسی بھی باغبان کو اپنے باغ سے اور کسان کو اپنے کھیت سے ہوتا ہے۔

مائیکل سلواٹور کا تعلق اٹلی سے ہے لیکن ان کے لیے اب سب کچھ آسٹریلیا ہے جس نے انھیں شناخت دی ہے۔ وہ میلبرن شہر کے تاریخی میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کے کیوریٹرز سٹاف میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے ذمے سب سے اہم کام ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں میلبرن میں ہونے والے میچوں کی پچ تیار کرنا ہے جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان اتوار کے روز ہونے والا میچ بھی شامل ہے۔

میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں چونکہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ آسٹریلین فٹبال بھی کھیلی جاتی ہے لہٰذا کرکٹ میچوں کے لیے اس میدان میں ڈراپ ان پچ استعمال کی جاتی ہے۔

مائیکل سلواٹور کا کہنا ہے کہ ’جب کرکٹ سیزن آتا ہے تو ڈراپ ان پچ کو یہاں نصب کیا جاتا ہے۔ یہ ڈراپ ان پچ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کے قریب واقع وکٹ نرسری سے تین ہفتے قبل لاکر یہاں نصب کر دی گئی تھی۔‘

مائیکل سلواٹور کہتے ہیں کہ جب کرکٹ سیزن ختم ہوتا ہے تو اس ڈراپ ان پچ کو یہاں سے نکال کر واپس وکٹ نرسری لے جایا جاتا ہے جہاں اس کی خاص طور پر دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

مائیکل سلواٹور کہتے ہیں کہ وہ پاکستان اور انڈیا کے میچ کے سلسلے میں بہت زیادہ پُرجوش ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ صرف کرکٹ میچ نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگوں کے جذبات اس کرکٹ سے جڑے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا ہے کہ اتوار کے میچ کے تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں اور پورا میلبرن کرکٹ گراؤنڈ تماشائیوں سے بھرا ہوگا اس لیے وہ یہ منظر دیکھنے کا بے تابی سے انتظار کررہے ہیں یہ ان کے لیے ایک منفرد تجربہ ہو گا۔

مائیکل سلواٹور اپنی نظروں کے سامنے نہ جانے کتنے کرکٹرز کو کھیلتا دیکھ چکے ہیں لیکن جب بات پاکستان اور انڈیا کے پسندیدہ کھلاڑیوں کی ہو رہی ہو تو وہ فوراً وسیم اکرم اور سوروگنگولی کے نام لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم جیسا سوئنگ بولر انھوں نے نہیں دیکھا جبکہ سورو گنگولی کی فائٹنگ اسپرٹ نے انہیں ہمیشہ متاثر کیا۔

مائیکل سلواٹور نے کیوریٹر کی حیثیت سے آسٹریلیا کے مختلف گراؤنڈز میں ذمہ داریاں نبھانے کے بعد پندرہ سال قبل میلبرن کرکٹ گراؤنڈ سے ایسا تعلق قائم کیا جو آج تک برقرار ہے اس عرصے میں وہ ترقی پاکر ایگزیکٹیو منیجر آف ٹرف کے عہدے تک بھی پہنچے ہیں۔

ان کے ذمے تمام انٹرنیشنل میچوں کی پچ اور آؤٹ فیلڈ کی تیاری پر نظر رکھنا شامل ہے۔ اس ذمہ داری کو بخوبی نبھانے پر انھیں ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔