انڈیا بمقابلہ پاکستان: جب دو روایتی حریفوں نے جنگ کے دوران بھی کرکٹ کھیلی

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انڈین کرکٹ بورڈ کے ایک حالیہ بیان کے بعد سنہ 2023 میں پاکستان میں ہونے والے ایشیا کپ میں انڈیا کی شمولیت پر شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں انڈیا سے آنے والے بیانات کے بعد پاکستانی کرکٹ بورڈ یہ عندیہ دے چکا ہے کہ ایسا کرنے سے بین الاقوامی کرکٹ متاثر ہو گی اور انڈیا میں منعقد ہونے والے 2023 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت بھی اثر انداز ہو گی۔

ایشیا کپ کے حوالے سے بحث کا سلسلہ تو جاری ہے ہی مگر اتوار (کل) کو آسٹریلیا میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ سے قبل بی بی سی نے ماضی کا جائزہ لیا ہے کہ کس طرح دو حریفوں نے کرکٹ کے میدان میں جنگ کے دوران بھی اچھے تعلقات قائم رکھے۔

انڈین کھلاڑی سنیل گواسکر کو یاد ہے جب اُن کی ٹیم نے تقریباً چار ماہ تک ایک ایسے وقت میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کیا جب دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر جنگ ہو رہی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب اپنے ملکوں سے 7000 کلومیٹر دور، آسڑیلیا میں، دونوں ملکوں کے کھلاڑی ریسٹ آف ورلڈ ٹیم کا حصہ تھے۔ سنہ 1971 کی جنگ دسمبر کے مہینے میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد ختم ہوئی تھی۔

اپنی آپ بیتی میں گواسکر نے لکھا کہ اس سب کے باوجود انڈین اور پاکستانی کھلاڑیوں کے درمیان کسی قسم کا تناؤ نہیں تھا۔ گیری سوبرز کی قیادت میں ریسٹ آف دی ورلڈ ٹیم میں 17 کھلاڑی شامل تھے جن میں سے چھ برصغیر سے تھے۔

گواسکر کے علاوہ بشن سنگھ بیدی اور فروخ انجینیئر انڈین کھلاڑی تھے جبکہ پاکستان کی نمائندگی ظہیر عباس، انتخاب عالم اور آصف محمود کر رہے تھے۔

اپنی کتاب ’سنی ڈیز‘ میں گواسکر لکھتے ہیں کہ ’ہم تقریباً ہر شام ایک پاکستانی ریستوران پر اکھٹے ہوتے تھے جس کا مالک خبریں سُن کر اُردو میں ایک کاغذ پر لکھ کر انتخاب عالم کو دے دیتا۔ انتخاب اس کاغذ پر نظر ڈالتے اور اسے پھینک دیتے تھے۔‘

میدان میں دوسرے بین الاقوامی کھلاڑی اِن روایتی حریفوں پر فقرے کستے رہتے تھے۔ ہلٹن ایکر مین، جو جنوبی افریقن بلے باز تھے اور گواسکر کے ساتھ اوپننگ کرتے تھے، اس صورت حال میں مزاحیہ چیزیں سوچتے تھے۔

’ان میں سے ایک میں انتخاب عالم اور فروخ انجینیئر بندوق کی سنگینوں سے لڑ رہے ہوتے، میں جہاز اڑا رہا ہوتا اور آصف محمود میرا پیچھا کر رہا ہوتا جب کہ بشن اور ظہیر فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہوتے۔‘

گواسکر لکھتے ہیں کہ ایکر مین کی ایسی سوچ پر ہم لطف اندوز ہوتے تھے۔ تاہم کچھ پریشانیاں ضرور تھیں۔

بشن سنگھ بیدی فروخ انجینیئر سے ناخوش تھے کہ انھوں نے ایک مقامی صحافی کو یہ بیان کیوں دیا کہ بمبئی میں سمندر کے قریب گھر ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کے لیے فکر مند ہیں اور یہ کہ وہ ان کو برطانیہ منتقل ہونے کا کہیں گے۔

اور خود بشن سنگھ بیدی جو صحافیوں سے بات نہیں کرتے تھے اس بات پریشان تھے کہ ان کا شہر امرتسر پاکستانی سرحد کے قریب تھا۔

گواسکر کی آپ بیتی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس جنگ کے دوران بھی دو ملکوں کے درمیان تنازعے نے کم از کم انڈیا اور پاکستان کے کھلاڑیوں کے تعلقات کو متاثر نہیں کیا۔

پاکستان نے آزادی کے بعد پانچ سال تک بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔ سنہ 1952 میں پاکستان کی ٹیم نے انڈیا کا دورہ کیا جہاں ان کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔ راما چندرا گوہا نے ’اِن اے کارنر آف اے فارن فیلڈ‘ میں لکھا ہے کہ کس طرح اس دورے نے دو ملکوں کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے تضاد کو نمایاں کیا۔

پاکستان کے اخبار ’ڈان‘ نے اس وقت اس امید کا اظہار کیا کہ ٹیم ایک اچھا تاثر چھوڑے گی کیوں کہ وہ خیر سگالی کے سفیر ہیں۔ دوسری جانب اسی اخبار میں ایک شہ سرخی تھی کہ ’انڈیا نے ’مقبوضہ‘ کشمیر میں فوج میں اضافہ کر دیا ہے۔‘

پاکستان کا یہ پہلا دورہ کامیاب رہا۔ انتہا پسند ہندو گروپ کی جانب سے کلکتہ ٹیسٹ کے بائیکاٹ کی کوشش بھی ناکام ہوئی اور شائقین بڑی تعداد میں میچ دیکھنے پہنچے۔ انڈیا نے سیریز دو ایک سے جیت لی۔

یہ بھی پڑھیے

اس وقت سے اب تک انڈیا اور پاکستان نے صرف 58 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان 102 میچ ہو چکے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان آغاز میں ہونے والی زیادہ تر سیریز کا نتیجہ ڈرا رہا۔ دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1965 اور 1971 کی جنگوں کی وجہ سے خراب ہوتے تعلقات کے باعث اگلے 17 سال تک کوئی میچ نہیں کھیلا گیا۔ اور بلآخر ایک سفارتی کوشش کے نتیجے میں کرکٹ تعلقات سنہ 1978 میں بحال ہو گئے اور انڈیا نے پاکستان کا دورہ کیا۔

اگلی دو دہائیوں کے دوران کرکٹ ہوتی رہی لیکن سیاست ایک بار پھر اس وقت آڑے آئی جب انڈیا نے پاکستان پر کشمیر میں شدت پسندی کو ہوا دینے کا الزام لگایا۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی۔ کارگل تنازعے کے بعد ایک اور سفارتی کوشش کے نتیجے میں انڈیا کی ٹیم نے سنہ 2003-2004 میں پاکستان کا دورہ کیا۔

اگلے چار برسوں کے دوران سالانہ بنیادوں پر دوطرفہ دورے دیکھنے میں آئے اور پھر نومبر 2008 کے ہولناک ممبئی حملوں کے بعد دو طرفہ دوروں کا سلسلہ رک گیا۔

پاکستان نے سنہ 2013-2012 میں صرف ایک موقعے پر انڈیا کا دورہ کیا اور پانچ روزہ ایک روزہ میچوں کی سیریز 2-3 سے جیتی تھی۔ تاہم پاکستانی کھلاڑیوں کو مسلسل دنیا کے سب سے امیر کرکٹ مقابلے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے باہر رکھا گیا۔

ایک انڈین مؤرخ مکل کیساوان نے ایک مضمون میں لکھا کہ 'دنیائے کرکٹ میں ان سرد گرم تعلقات کی کوئی مثال تلاش کرنا مشکل ہے۔‘

کھلیوں کے بارے میں لکھنے والے سوریش مینن کا کہنا ہے کہ انڈیا پاکستان کی روایتی دشمنی عمومی طور پر کھلاڑیوں سے زیادہ عوام کے دلوں اور ذہنوں میں زیادہ رہی ہے۔

انڈین کھلاڑیوں نے ہمیشہ پاکستان میں شائقین کرکٹ سے ملنے والی محبت اور تعریف کے بارے میں بات کی ہے۔ سنہ 1955 میں، ہزاروں شائقین کراچی ایئرپورٹ پر انڈین کرکٹرز کے استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اپنے دوروں کے دوران جب بھی کبھی انڈین کھلاڑی پاکستانی بازاروں میں خریداری کرنے گئے تو دکانداروں نے اکثر ان سے پیسے لینے سے انکار کیا۔

مزید پڑھیے

آج کل سوشل میڈیا پر لڑائیاں وہ شائقین لڑ رہے ہیں ’جن کا ماننا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں جیت اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ ایک سیاسی نظام یا ایک مذہب یا ایک قوم دوسرے سے برتر ہے۔‘

دنیا کے بڑے کھلیوں میں سے ایک کھیل کرکٹ میں یہ منفرد دشمنی برصغیر کی ہنگامہ خیز سیاست کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی۔