ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: کیا ایشیا کپ کا فائنل ہارنے والی پاکستانی ٹیم ’تبدیلی‘ لا سکے گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یہ بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ چہروں کی نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کارکردگی میں بہتری لاتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ پاکستانی ٹیم کو دیکھ کر یہ سوال ضرور ذہن میں آتا ہے کہ چہرے تو نہیں بدلے لیکن کیا یہی چہرے کارکردگی میں تبدیلی لا سکیں گے؟
کیونکہ چیف سلیکٹر ہوں یا ہیڈ کوچ اور کپتان، تینوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں کسی بھی تبدیلی کے حق میں نہیں تھے اور اس وقت ٹیم جس برانڈ کی کرکٹ کھیل رہی ہے اس سے بھی مطمئن دکھائی دیتے ہیں حالانکہ عام رائے اس کے قطعاً برعکس ہے۔
ایشیا کپ سے پہلے ہی پاکستانی ٹیم کے کھیلنے کے انداز پر چہ مگوئیاں ہونے لگی تھیں اور کرکٹ مبصرین مڈل آرڈر کے غیر مستحکم ہونے کی باتیں کر رہے تھے اور پھر سب نے دیکھا کہ پاکستانی ٹیم کی یہ مڈل آرڈر بیٹنگ سری لنکا کے خلاف لگاتار دو میچوں میں بکھر گئی، جن میں فائنل بھی شامل تھا۔
ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم نے صرف انڈیا کے خلاف سپر فور میں 182 کا بڑا ہدف عبور کر کے میچ جیتا تھا جس میں مشکل گھڑی میں کلیدی کردار محمد نواز کی جارحانہ بیٹنگ نے ادا کیا تھا جبکہ افغانستان کو تاریخی جیت سے دور کرنے والے اوپنرز یا مڈل آرڈر بیٹسمین نہیں بلکہ ٹیل اینڈر نسیم شاہ تھے۔
اوپنگ جوڑی نہیں چھیڑ سکتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایشیا کپ میں مڈل آرڈر بیٹنگ مسلسل تگ ودو کر رہی تھی لیکن اگر حقیقت پسندی سے دیکھیں تو پاکستان کے مسائل اوپر سے ہی شروع ہو جاتے تھے۔
کپتان بابر اعظم پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل ناکام رہے۔ محمد رضوان اگرچہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین رہے لیکن ان کا سٹرائیک ریٹ 117.57 رہا۔
اس تمام تر صورتحال کے باوجود چیف سلیکٹر محمد وسیم اس بات کے حق میں نہیں کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی کو چھیڑا جائے جیسا کہ پاکستانی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی رائے رہی ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان میں سے کسی ایک کو اوپنر رکھا جائے اور دوسرا ون ڈاؤن آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد وسیم اس بارے میں بالکل واضح سوچ رکھے ہوئے ہیں کہ وہ بابراعظم اور محمد رضوان کے ہوتے ہوئے کسی بیک اپ کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔
ایک اوپنر (بابر اعظم) کے ناکام ہونے اور دوسرے (محمد رضوان ) کے رنز بنانے کے لیے زیادہ گیندیں کھیلنے کے مسئلے کو اگر کوئی حل کر سکتا تھا تو وہ ون ڈاؤن بیٹسمین فخر زمان تھے لیکن وہ ناکامی کے گرداب میں ایسے پھنسے کہ نکل ہی نہ سکے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹیم میں فخر زمان نہیں۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ وہ ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا سفر ٹریولنگ ریزرو کی حیثیت سے کریں گے تاہم جمعرات کی شب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بتایا کہ فخر زمان کو گھٹنے کے علاج کے لیے لندن بھیجا جا رہا ہے۔
نیوزی لینڈ میں پاکستانی ٹیم کو نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے ساتھ سہ فریقی سیریز کھیلنی ہے جو 7 سے 14 اکتوبر تک کھیلی جائے گی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے قواعدوضوابط کے مطابق کوئی بھی ٹیم 15 اکتوبر تک آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری کے بغیر اپنے کھلاڑیوں میں ردوبدل کر سکتی ہے۔
فخر زمان کے ورلڈ کپ سکواڈ میں نہ ہونے کے بعد اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ حیدر علی نمبر تین پوزیشن پر کھیلیں گے۔
حیدر علی ایشیا کپ میں بھی ٹیم کے ساتھ تھے لیکن ٹیم منیجمنٹ نے فخر زمان پر مسلسل اعتماد کرتے ہوئے حیدر علی کو کسی بھی میچ میں موقع دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی البتہ انھیں انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں بھی شامل کیا گیا ہے جس سے انھیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے خود کو تیار کرنے کا موقع مل جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مڈل آرڈر کی کیا شکل بنے گی؟
آصف علی، افتخار احمد اور خوشدل شاہ ایشیا کپ میں غیر متاثر کن کارکردگی کے باوجود ٹیم میں موجود ہیں لیکن شان مسعود کی انٹری کے بعد افتخار اور خوشدل شاہ میں سے کوئی ایک ہی فائنل الیون میں جگہ بنا پاسکے گا۔
آصف علی نے ایشیا کپ میں بہت زیادہ مایوس کیا کیونکہ گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انھوں نے جس جارحانہ انداز سے افغانستان کے ِخلاف پاکستانی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا تھا اس کے بعد ان سے بہت زیادہ توقع کی جارہی تھی لیکن وہ جس طرح سری لنکا کے خلاف لگاتار دو میچوں میں پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے وہ بہت ہی مایوس کن تھا۔ اس کے علاوہ انڈیا کےخلاف دونوں میچوں میں بھی وہ ناکام ثابت ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
افتِخار احمد سلو سٹارٹ کے بعد رفتار پکڑنے کی عادت رکھتے ہیں لیکن اس دوران وکٹ گنوا کر وہ سارا انداز توڑ کر ٹیم کو مشکلات سے دوچار کر دیتے ہیں۔
جہاں تک شان مسعود کی سلیکشن کا تعلق ہے تو چیف سلیکٹر محمد وسیم حالیہ دنوں میں یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ شان مسعود چونکہ اوپنر ہیں لہذا بابر اعظم اور محمد رضوان کی موجودگی میں ان کا سلیکشن اوپر کے نمبر پر ممکن نہیں لیکن شان مسعود نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے اپنے سلیکشن کو ممکن بنا ڈالا اور اب چیف سلیکٹر بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ اوپر بھی کھیل سکتے ہیں اور مڈل آرڈر میں بھی۔
شان مسعود اس سال ٹی ٹوئنٹی میچوں میں مجموعی طور پر 1257 رن بنا چکے ہیں اور ان کا سٹرائیک ریٹ 136.68 ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
شعیب ملک اور سرفراز کا مستقبل
ورلڈ کپ سکواڈ میں محمد حارث کو ریزرو کھلاڑی کے طور پر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ سرفراز احمد کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
شعیب ملک کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا پر خاصے متحرک دکھائی دیتے ہیں اور انھوں نے دوستیاں نبھانے سے متعلق طنزیہ ٹویٹ بھی کی۔
چیف سلیکٹر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد سے ہی شروع کر دی گئی تھی اور اس وقت جو کھلاڑی نظر نہیں آ رہے ہیں ان کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ ان کنڈیشنز اور ٹیم کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے نہیں کھیلے۔
محمد وسیم کے مطابق انھی کھلاڑیوں پر اعتماد کیا گیا ہے جو اس عرصے میں ٹیم کو جتواتے آئے ہیں اور آخری منٹ میں کسی کھلاڑی کو ٹیم میں لانے کے بارے میں سوچا نہیں گیا۔
جہاں تک شعیب ملک کا تعلق ہے تو وہ گذشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کا حصہ تھے اور انھوں نے سکاٹ لینڈ کے خلاف چھ چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے ناقابل شکست نصف سنچری بھی بنائی تھی لیکن اس کے بعد آسٹریلیا اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف وہ ایک رن اور صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے جس کے بعد وہ ٹیم سے باہر ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہین آفریدی کی فٹنس
شاہین شاہ آفریدی ابھی مکمل فٹنس کی طرف گامزن ہیں اسی لیے انھیں انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں شامل نہیں کیا گیا۔
دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل نیوزی لینڈ میں ہونے والی سہ فریقی سیریز کھیل کر اپنی فٹنس ثابت کر سکیں گے اور عالمی ایونٹ میں ان کے متبادل کی نوبت تو نہیں آئے گی؟
سری لنکا کے دورے میں ان فٹ ہونے کے بعد انھیں جس طرح ٹیم کے ساتھ ساتھ ہالینڈ اور متحدہ عرب امارات میں رکھا گیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا میڈیکل پینل جس طرح دعوے کرتا رہا لیکن بعد میں انھیں انگلینڈ بھیجنا پڑا، یہی کام اگر پہلے کر لیا جاتا تو ممکن تھا کہ اس وقت وہ مکمل فٹ ہو چکے ہوتے۔
پاکستان کا بولنگ اٹیک شاہین آفریدی، حارث رؤف، محمد حسنین، نسیم شاہ اور وسیم جونیئر کی موجودگی میں مؤثر شکل رکھے ہوئے ہے۔
حارث رؤف اور محمد حسنین کو بگ بیش کھیلنے کی وجہ سے آسٹریلوی وکٹوں کا تجربہ ہے۔ لیگ سپنر شاداب خان اور عثمان قادر بھی وہاں کی کنڈیشنز سے آشنا ہیں۔
ان کے علاوہ محمد نواز کا کردار بھی نہایت اہم ہو گا لیکن اس کے لیے ضروری ہو گا کہ کپتان بابر اعظم ان کی صلاحیتوں سے کس طرح فائدہ اٹھائیں گے کیونکہ وہ چار اوورز کی اس کرکٹ میں ایسے بولر ہرگز نہیں، جنھیں صرف ایک اوور دینے کے بعد بھلا دیا جائے۔












