ایشیا کپ میں انڈین ٹیم کی کارکردگی اتنی خراب کیوں رہی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ودھانشو کمار
- عہدہ, سپورٹس جرنلسٹ
منگل کو سری لنکا کے خلاف میچ میں انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کے لائق تھے۔ جب تھرڈ امپائر نے تقریباً پانچ منٹ تک فوٹیج دیکھنے کے بعد کے ایل راہول کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دیا تو روہت شرما کا چہرہ پریشان دکھائی دیا۔
اسی طرح جب ویراٹ کوہلی دوسرے اینڈ پر پر صفر پر بولڈ ہوئے تو ایک بار پھر روہت شرما کے چہرے پر پریشانی صاف ظاہر تھی۔
لیکن روہت شرما کے ایسے مایوس کن تاثرات صرف اس میچ میں ہی نظر نہیں آئے۔ وہ ہانگ کانگ کے خلاف دوسرے میچ میں بھی پریشان تھے۔
سری لنکا سے ہار انڈین کرکٹ ٹیم کے لیے ایک طرح سے تابوت میں آخری کیل تھی، جس نے اسے ایشیا کپ کے فائنل کی دوڑ سے تقریباً باہر کر دیا ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ گلیمرس اور سٹار کھلاڑیوں سے بھری انڈین ٹیم ایشیا کپ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کمزور بولنگ
فرض کریں جسپریت بمراہ بریک پر ٹیم سے باہر ہیں، اور ہرشل پٹیل انجری کی وجہ سے ٹیم میں نہیں ہیں، لیکن پھر بھی انڈین ٹیم نے جس طرح کی بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال حالیہ دنوں میں نہیں ملتی۔
پاکستان کے خلاف پہلے میچ کو چھوڑ کر پورے ٹورنامنٹ میں انڈین بولرز نے اپنی کارکردگی سے مایوس کیا۔
ہانگ کانگ کے خلاف میچ میں بھی انڈین بولرز کی کارکردگی اوسط سے کم رہی۔ اس میچ میں ہانگ کانگ کے بلے بازوں نے اویش خان اور ارشدیپ سنگھ کے آٹھ اوورز میں 97 رنز بنائے۔ جہاں اویش نے چار اوورز میں 53 رن دیے وہیں ارشدیپ نے چار اوورز میں 44 رن دیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا نے وہ میچ جیت لیا تھا لیکن کپتان روہت شرما کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ اس کارکردگی پر وہ کتنے پریشان تھے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان اور سری لنکا کے خلاف سپر فور میچوں میں انڈین بلے بازوں نے 180 کے قریب سکور کیا لیکن بولرز اس ٹوٹل کا دفاع نہ کر سکے اور آخری اوور میں دونوں میچ ہار گئے۔
اس ٹورنامنٹ میں جہاں بھونیشور کمار نے اپنا پہلا بولنگ سپیل ٹھیک کروایا وہیں کم رفتار کی وجہ سے آخری اوورز میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ارشدیپ سنگھ نے چند اوورز اچھی گیند بازی کی لیکن ان کی گیند بازی میں بھی تجربے کی کمی نظر آئی اور جب بھی بلے بازوں نے ارشدیپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی وہ کامیاب رہے۔
انڈین سپنرز نے بھی اچھی بولنگ کی اور میچ کے دوران کمنٹیٹرز کا کہنا تھا کہ انڈیا کو کلدیپ یادیو کو نہیں بھولنا چاہیے اور انھیں بھی ٹیم میں دوبارہ موقع دینا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہاردک پانڈیا تیسرے یا چوتھے سیم بولر؟
ہاردک پانڈیا کی بولنگ پر سب سے زیادہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کئی سابق کھلاڑی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ پانڈیا ٹیم میں تیسرے سیمر ہیں یا چوتھے؟
ایشیا کپ میں دیکھا گیا کہ جس میچ میں پانڈیا چوتھے تیز گیند باز تھے، انھوں نے اس میچ میں (پاکستان کے خلاف پہلے میچ کی طرح) اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
جس وقت، دیگر میچوں میں، انھیں تیسرے سیمر کے طور پر کھلایا گیا اور وہ دباؤ میں نظر آئے کیونکہ مخالف ٹیم نے ان کے خلاف تیزی سے سکور کرنے کا ذہن بنا لیا تھا۔
وسیم اکرم نے کمنٹری کے دوران کہا کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کہ ٹیم کے پاس محمد شامی جیسا تجربہ کار پیسر کیوں نہیں ہے۔
تین سیمرز کے ساتھ کھیلنے والی انڈین ٹیم کو اکثر چوتھے پیسر کی کمی محسوس ہوتی تھی اور بولرز اچھے ٹارگٹ کا دفاع بھی نہیں کر پاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین بیٹنگ کا انحصار بھی ٹاپ تھری پر ہے
گوتم گمبھیر کا کہنا ہے کہ اگر انڈین ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی میں اچھا آغاز ملتا ہے تو بعد کے بیٹسمین چھوٹی چھوٹی اننگز کھیل کر بھی ٹیم کو جتوا سکتے ہیں۔
کیمیو کا مطلب ایک اننگز ہے جس میں بیٹسمین کم گیندیں کھیل کر تیز رنز بنانے کے قابل ہو، جیسا کہ 10-12 گیندوں میں 20-22 رنز۔
یعنی اگر ٹیم کو اچھی اوپننگ ملتی ہے، جیسے راہول اور روہت نے پاکستان کے خلاف کم وقت میں 50 رنز بنائے تو ایک یا دو کیمیو اننگز کے ساتھ ٹیم کا سکور اور بھی زیادہ ہو جاتا۔
اس کے ساتھ ہی سری لنکا کے خلاف روہت شرما اور سوریہ کمار یادیو نے تیسری وکٹ کے لیے 97 رنز کی شراکت داری کی، لیکن بعد میں آنے والے بلے باز نہ تو کھیل سکے اور نہ ہی تیزی سے رنز بنا سکے۔
ان میچوں میں جس طرح کی پچ تھی، بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 200 رنز کے آس پاس ضرور سکور کرنا چاہیے تھا کیونکہ پچ دوسری اننگز میں بیٹنگ کے لیے آسان ہو جاتی ہے۔
انڈین بیٹنگ بھی اوپر سے مضبوط نظر آتی ہے اور بڑا سکور کرنے کے لیے روہت، راہول اور ویراٹ کے ٹاپ 3 پر منحصر ہے۔
انجری کے بعد ٹیم میں واپسی کے بعد سے ایل راہول نے ابھی تک ایک اننگز میں 50 رنز نہیں بنائے اور ٹی ٹوئنٹی کے حساب سے ان کا رن ریٹ بھی بہت کم ہے۔
روہت شرما بھی حالیہ دنوں میں 30 کے قریب سکور پر آؤٹ ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ انھوں نے سری لنکا کے خلاف 72 رنز بنائے لیکن ان کی وکٹ ایک سافٹ آؤٹ تھی یعنی وہ جس گیند پر آؤٹ ہوئے اسے وہ ایک اور شاٹ بنا کر کھیل سکتے تھے اور اپنی وکٹ بچا سکتے تھے۔
ویراٹ کوہلی نے ایشیا کپ کے دو میچوں میں نصف سنچریاں بنائیں لیکن سری لنکا کے میچ میں صفر پر آؤٹ ہو کر ٹیم کو زبردست دباؤ میں ڈال دیا۔
بقیہ مڈل آرڈر میں سوریہ کمار اور ہاردک پانڈیا نے ایک ایک اچھی اننگز کھیلی لیکن دوسرے میچوں میں وہ زیادہ کچھ نہیں کر سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کپتانی میں غلطیاں
روہت شرما کو اگرچہ آئی پی ایل کا بہترین کپتان مانا جاتا ہے لیکن ایشیا کپ میں ان کی کپتانی میں بھی کئی غلطیاں نظر آئیں۔
انڈین ٹیم اپنی متوازن فائنل الیون کا انتخاب نہ کر سکی۔ ساتھ ہی پاکستان اور سری لنکا دونوں کے خلاف سپر فور میچوں میں دیپک ہڈا سے بولنگ نہ کروانا بھی ایک غلطی تھی۔
جب کسی ایک بولر کو مار پڑتی ہے تو ایسے میں چھٹے بولر سے گیند کروا کر نقصان کو کم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن روہت نے ایسا نہیں کیا اور وہ بھی اس وقت جب سری لنکا کو سپنروں کو کھیلنا بہت مشکل لگ رہا تھا۔
انڈیا کا اب ایشیا کپ میں سفر دوسری ٹیموں پر منحصر ہے۔ سری لنکا کو شکست دینے کے بعد افغانستان نے ایک بار پھر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اسے ہلکا حریف نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور انڈین ٹیم ان کے خلاف کسی غلطی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔












